سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 174
174 والی جماعتوں میں سے جھوٹ کی عادت بالکل متروک ہو چکی ہے اور ختم ہو چکی ہے۔بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں علاقائی اثرات کے نتیجے میں جھوٹ عام ہے اور سوائے اُن متقیوں کے جن کی جماعت تھوڑی ہے جو بالا رادہ اپنے آپ کو جھوٹ کی نجاست سے پاک رکھتے ہیں، احمدیوں کے اندر ایک طبقہ ایسا ہے جس میں جھوٹ کی وہ شدت نہ سہی مگر جھوٹ کی ملونی ان کی باتوں میں ضرور پائی جاتی ہے اور سب سے بڑی خطرناک بات یہ ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں خواہ وہ جھوٹ نہ بھی بولتے ہوں جب ضرورت پیش آتی ہے تو اس سے پر ہیز نہیں کرتے۔اب یہ دو الگ الگ باتیں ہیں لیکن ایک دوسرے کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہیں۔وہ سوسائٹی جس میں جھوٹ کی شرم اُٹھ جائے وہاں جھوٹ اس طرح بولا جاتا ہے جیسے زندگی کے سانس لئے جاتے ہیں اور کوئی حیاء نہیں ہوتی اور کوئی روک حائل نہیں ہوتی۔ایسے لوگ گھر میں بھی بے تکلف جھوٹ بولتے ہیں، عدالتوں میں بھی جھوٹ بولتے ہیں، دفتروں میں اگر کام نکلوانے ہوں وہاں بھی جھوٹ بولتے ہیں گویا جھوٹ اُن کی فطرت ثانیہ بن چکی ہوتی ہے۔ثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ کی وضاحت اس پہلو سے خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کی اکثریت کا ایسا ابتر حال نہیں ہے لیکن جب ضرورتیں پیش آتی ہیں اُس وقت وہ جھوٹ بول دیتے ہیں اور ایسے متقی جو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کے ساتھ ہر حال میں جھوٹ سے پر ہیز کرتے ہیں اُن کی تعداد تھوڑی ہے۔ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ تو ہوتے ہیں لیکن ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ نہیں ہیں (الواقعہ : 40-41) قرآن کریم کے بیان فرمودہ اس حصے کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔وہ لوگ جو نیکیوں میں بہت سبقت لے گئے اُن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے اولین میں یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تربیت یافتہ لوگوں میں وہ ایک بڑی جماعت تھے اور آخرین میں بھی ایسے لوگ ہوں گے لیکن وہ بڑی جماعت کے طور پر نہیں ہوں گے۔نسبت تعداد کے لحاظ سے اُن کی تعداد کے لوگ تھوڑے ہوں گے اور غالب اکثریت قرار نہیں دیا جاسکتا۔پس یہ وہ پیشگوئی ہے جسے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیشگوئی اس غرض سے تھی کہ تم اس پر اطمینان پا جاؤ۔یہ پیشگوئی اس غرض سے تھی کہ ہمیں متوجہ کیا جائے کہ تم جس بلند مقام کے لئے پیدا کئے گئے ہوا بھی تک اُس بلند مقام کو پانہیں سکے اور تم اپنی حالت سے اس لئے غافل نہ رہ جانا کہ تمہیں قرآن کریم نے اولین سے ملانے کی خوشخبری دی ہے۔تم اولین سے ملائے تو جاؤ گے لیکن "ثل " کے طور پر نہیں ، ایسی بڑی تعداد میں جیسا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مخلصین اور متقدمین کی جماعت موجود تھی اتنی بڑی تعداد میں تم نسبت کے لحاظ سے نیک رہو