سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 171
171 آنکھوں کے نیچے حیرت انگیز طور پر اس قوم میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ آخری شکل میں لکھوکھہا بلکہ قریباً ایک کروڑ تک سپاہی پیدا کر سکے ہیں۔تو یہ ترکیب جو اس کے دماغ کی Wave بتائی جاتی ہے آج سے چودہ سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خود سکھائی تھی۔اور اسی آیت میں اس کا بیان ہے۔فرمایا: دیکھو ایسے طالب علم نہ تیار کرو جو علم کو اپنی ذات تک رکھیں اور خود علم حاصل کریں بلکہ ایسے اساتذہ تیار کرو جو تفقه فی الدین حاصل کرنے کے بعد بطور استاد اپنی قوموں کی طرف واپس لوٹ سکیں۔اس پہلو سے افریقہ میں ہمیں بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔کئی ایسے ممالک ہیں جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے کثرت کے ساتھ احمدیت پھیلنی شروع ہو چکی ہے اور عیسائیوں میں سے بھی لوگ بڑی کثرت سے اسلام میں داخل ہورہے ہیں اور غیر احمدی مسلمانوں میں سے بھی ، وہاں کے امراء کے لئے ضروری ہے کہ ان میں تحریک کر کے صرف وہاں جا کر تربیت کے لئے اپنے مربیوں کو نہ بھجوائیں۔جیسا کہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھجوا رہے ہیں بلکہ ان میں سے واقفین عارضی لیں اور ان کو یہ کہیں کہ جہاں ہم تمہارے لئے جگہ مقرر کرتے ہیں وہاں آکر دین کو اتنا ضرور سیکھنا ہے کہ تم دوسروں کو سکھا سکو اور پھر اس نظام کو سارا سال جاری رکھیں تا کہ یہ ٹولیاں اولتی بدلتی رہیں آج ایک ٹولی ایک جگہ سے آئی ہے اور جاکے کام میں مصروف ہو گئی۔کل ایک دوسری ٹولی آگئی، پرسوں ایک اور ٹولی آگئی ، گویا کہ اس طرح ایک جاری کلاس کا انتظام ہو۔اس کے لئے ان کو چاہئے کہ پورا نظام مقرر کریں اس کا بجٹ بنائیں اور مجھے مطلع کریں کہ اس قسم کا نظام ہم نے جاری کیا ہے اور ضروری نہیں ہے کہ ایک جگہ ہو جیسا کہ میں نے قرآن کریم کی آیت سے آپ کو سمجھایا ہے۔قرآن کریم نے کسی خاص جگہ کا ذکر نہیں فرمایا اور یہ انسانی سہولتوں اور مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے بیان فرمایا گیا ہے۔اس لئے جہاں ممکن ہے۔جہاں آپ کو اساتذہ مہیا ہو سکتے ہیں اور کم سے کم محنت سے زیادہ سے زیادہ بہترین انتظام جاری کیا جاسکتا ہے وہاں آپ یہ نظام جاری کریں۔ذیلی تنظیمیں ایسا تعلیمی نظام جاری کریں جو سارا سال کام کرتا رہے خدام اور انصار اور لجنات قرآن کریم سکھانے اور نمازیں سکھانے کے اپنے پروگرام میں مضمون کو پیش نظر رکھیں اور وہ بھی ایک تربیتی اور تعلیمی نظام جاری کر دیں جو سارا سال کام کرتا رہے۔اس طریق پر جب ہم کام کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ جس کثرت کے ساتھ دنیا میں اسلام پھیلے گا اسی رفتار کے ساتھ ساتھ اسلام کا روحانی نظام متحکم ہوتا چلا جائے گا اور جو شخص بھی اسلام میں داخل ہوگا وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے کامل طور پر ایک ایسے نظام کا حصہ بن جائے گا جو اس کو سنبھالنے والا ہوگا اور نئے آنے والوں کو سنبھالنے والا ہوگا۔ان کی ذہنی اور علمی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہوگا۔ان کی اخلاقی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہوگا اور وہ ایک ٹھوس مستقل نظام کا جزو بن کر ایک عظیم قافلے کے طور پر شاہراہ اسلام پر آگے بڑھنے والے ہوں گے۔یہ نہیں ہوگا