سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 169

میں سفر کیا ہے۔169 ( خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 171-174) ذیلی تنظیمیں قرآن کی تعلیم دیں۔وقف عارضی کریں اور اپنے دائرے میں کلاسز کا اہتمام کریں خطبہ جمعہ 11 مئی 1990ء) " دیکھیں قرآن کریم نے بڑے خوبصورت انداز میں سارے امکانات کو کھلا رکھا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ مرکز میں پہنچیں وہ لوگ کیونکہ یہ ناممکن ہے۔اسلام جو ساری دنیا میں پھیل رہا ہو کیسے ممکن ہے کہ ہر جگہ سے لوگ آکر ایک مرکز اسلام میں پہنچ کر وہاں سے دین سیکھیں۔فرمایا : فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمُ طَابِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ - نَفَرَ کا مطلب دو طریق پر سمجھا جاسکتا ہے۔ایک تو یہ کہ ان میں سے نظر کر الگ ہو جائیں۔کچھ ایسے لوگ ہوں جو جہاں بھی ہیں یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم یہ امتیاز حاصل کریں گے کہ ہم نے دین میں تفقہ حاصل کرنا ہے۔پس ظاہری طور پر وہ اپنے مقام کو نہ بھی چھوڑیں تو وہیں جہاں وہ موجود ہیں ان کے لئے تفقہ فی الدین کا انتظام ہونا ضروری ہے۔دوسرا ہے نَفَرَ مِنْ كُلِ فِرْقَةٍ کا ظاہری نفر یعنی وفود بن کر با قاعدہ ان میں سے ایک طبقہ سفر اختیار کرے اور وہ سفر خالصۂ دین حاصل کرنے کی غرض سے اختیار کیا جائے تو پیشتر اس کے کہ یہ دین پہنچانے کے لئے لوٹیں ، دین حاصل کرنے کے لئے سفر اختیار کریں۔ظاہر بات ہے یہ مسلمان ہیں ورنہ انہوں نے کہیں دین حاصل کرنے کے لئے کیوں پہنچنا ہے اور پھر ذکر ہی وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كافة مومنوں سے شروع کیا گیا ہے۔پس اس پہلو سے اس نظام کو وقف عارضی کا نظام بنانا ضروری ہے۔ورنہ وقف عارضی سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا جاسکے گا اور جو پاکستان کے علاوہ ممالک ہیں۔انگلستان ہے یا جرمنی ہے یا ناروے ہے۔اس طرح افریقن ممالک ہیں، ہندوستان میں آج کل خدا کے فضل سے کثرت سے تبلیغ ہو رہی ہے اور جوق در جوق بعض جگہ لوگ اسلام یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ان سب جگہوں میں وقف عارضی کے نظام کو دوبارہ زندہ کرنا بے حد ضروری ہے اور جن ذیلی تنظیموں کے سپر د بھی میں نے یہ کام کیا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم دیں وہ وقف عارضی کے نظام کے علاوہ اپنے دائرے میں مختصرا یسی کلاسز کا انتظام کر سکتے