سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 168

168 فضل سے جماعت احمدیہ کارد عمل عام دنیا کے ردعمل کے مقابل پر ایک بالکل جدا گانہ ردعمل ہے۔محض باشعور طور پر محنت کی ضرورت ہے۔ذیلی تنظیموں کے عہدیداران کو خدا سے لقاء کی دعائیں مانگنی ہیں پس ہمارے نظام سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی عہدیداران ہیں خواہ وہ خدام الاحمدیہ سے تعلق رکھتے ہوں، لجنہ سے تعلق رکھتے ہوں ، انصار سے تعلق رکھتے ہوں اور نظام جماعت کے دوسرے عہد یداران وہ ان باتوں کا خیال کریں اور اس رمضان میں خصوصیت سے ہر جگہ یہ شعور بیدار کریں کہ ہم نے خدا سے لقاء کی دعائیں مانگنی ہیں اور لقاء کی تیاریاں کرنی ہیں اور اس کی لقاء کی خاطر اپنے گھروں کو سنوارنا ہے۔اپنے صحنوں کو جھاڑو دینے ہیں اور اپنی دیواروں کو دھونا اور صاف کرنا اور اپنے فرشوں کو مانجھنا ہے۔جس طرح ایک اچھے مہمان اور پیارے مہمان کی تیاری ہر گھر کرتا ہے خواہ وہ غریب ہو، خواہ امیر ہو۔ہم نے اپنی توفیق کے مطابق اپنے گھر کو خدا کے لئے سنوارنا ہے تا کہ وہ ایک معزز مہمان کی طرح یہاں نازل ہو۔حضور کے تجربات کئی دفعہ اگر وقت نہ بھی ہو اور پتا چلے کہ کوئی شخص بیچارہ تیاری کر کے بیٹھا ہوا ہے تو انسان مجبوراً بھی وہاں چلا جاتا ہے۔میں نے سفروں کے دوران دیکھا ہے وقف جدید ، انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ کے دوران میں نے پنجاب میں بڑے سفر کئے ہیں۔بعض دفعہ ہمارے دور میں ایک گاؤں نہیں ہوا کرتا تھا اور ان کو پتا ہوتا تھا کہ یہ دورے میں شامل نہیں ہے۔گاؤں والے پہنچ جاتے تھے۔کہتے تھے کہ جی ہم تو تیاری کر کے بیٹھے ہیں کیا کریں؟ اس میں محبت کا ایک ایسا جذبہ پایا جاتا ہے کہ دوسرے کو بے اختیار کر دیتا ہے جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم تو جی تیار بیٹھے ہیں تو پھر انسان کیسے کہہ دے اچھا تیار بیٹھے رہو ہم نہیں آسکتے۔مجبوراً وقت نکالنا ہی پڑتا ہے کچھ وہاں سے پھر وقت کھینچا، کچھ کہیں سے کھینچ کر لمبا کیا۔بہر حال وقت دینا پڑتا ہے تو اگر انسان میں ایسا جذبہ ہے احسان مندی کا ، تو خدا تعالیٰ نے تو ہمیں احسان سکھایا ہے۔وہ ہمارے احسان کا بھی خالق ہے۔کیسے ممکن ہے کہ آپ خدا کے لئے کچھ تیاری کریں اور خدا کی طرف سے کورا سا جواب مل جائے کہ میرے پاس تمہارے لئے وقت نہیں ہے کہ تم پوری طرح صاف نہیں ہوئے۔پس صاف ہونے کی کوشش شروع کر دیں پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح آپ پر اپنی رحمت کا جلوہ دکھاتا ہے وہ جھکا کرتا ہے۔آپ میں اٹھنے کی طاقت نہیں ہے اور حقیقت میں معراج بھی خدا کے جھکنے کا ہی نام ہے اور معراج کا جو عرش ہے وہ حقیقت میں انسان کے دل کا عرش ہے۔پس آپ لقاء باری تعالیٰ کی تیاری اس طرح تفصیل سے اس مضمون کو سمجھنے کے بعد کچھ نہ کچھ ضرور شروع کر دیں اور آج کے بعد جب رمضان ختم ہو تو دیکھیں کہ آپ نے کتنا خدا کی ذات