سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 167
167 ذیلی تنظیموں کو خدا سے لقاء کی دعائیں مانگنی ہیں اپنی زبانیں صاف کریں خطبہ جمعہ 30 مارچ 1990) "ہمارے ایک خادم سلسلہ نے خدام الاحمدیہ کے اصلاحی دوروں کے سلسلہ میں حیدر آباد ڈویژن کا اور بعض دوسرے علاقوں کا سفر کیا تو ان کا بڑا تکلیف دہ خط موصول ہوا۔انہوں نے لکھا کہ ماحول کو تو میں جانتا ہی ہوں کیا حال ہو چکا ہے؟ مجھے تعجب ہوا کہ بعض دیہاتی احمدی جماعتوں میں بھی زبان کی صفائی کا خیال نہیں ہے۔وہ عام روز مرہ گالیاں دینے لگ گئے ہیں۔محاورے کے طور پر ہل چلا رہے ہیں تو اور کچھ نہیں تو بیل کو ہی ساتھ گالیاں دیتے جاتے ہیں۔کس قدر بے وقوفی ہے؟ کہتے ہیں کہ ایک فرق میں نے ضرور دیکھا کہ اگر باقی معاشرے کی اصلاح کے لئے میں عمر بھی وقف کر دیتا تو کسی نے میری بات نہیں مانی تھی۔میں عمر کا چھوٹا ہوں، ان سے نا واقف بھی تھا جن کے پاس پہنچا لیکن جب میں نے ان کو سمجھایا کہ تم ہو کون اور تم سے کیا توقعات ہیں تو ہر ایک نے فوری طور پر مثبت رد عمل دکھایا اور پھر کہتے ہیں کہ میں نے دوروں میں دوبارہ جا کر رابطے کئے تو مجھے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ وہ محض ایک فرضی رد عمل نہیں تھا بلکہ واقعہ ان کے اندر تبدیلیاں پیدا ہورہی تھیں۔پس احمدیت کی مٹی میں یہی تو مزہ ہے کہ واقعتہ وہ مٹی ہے جونم ہو تو بہت زرخیر ہے۔اس وقت احمدی معاشرے کی اصلاح مشکل نہیں ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان نے دلوں میں ایک ایسی نرمی پیدا کر دی ہے اور وہ ملائمت پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں جس طرح آپ موم کو جس طرح چاہیں ڈھال لیں، یہیٹی نیکی میں ڈھلنے کے لئے موم کی طرح اثر رکھتی ہے اور بدی میں ڈھلنے کے لئے سخت ہو جاتی ہے۔بیک وقت اس مٹی میں یہ دو خصوصیات موجود ہیں۔خدا ان خصوصیات کو ہمیشگی کی زندگی دے جس قوم میں یہ خصوصیات پائی جائیں ان کی اصلاح آسان ہو جایا کرتی ہے اور بہت ہی ہوا کے رخ پر چلنے والی بات ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں ڈھلنے والی مٹی کی یہ تعریف فرمائی: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحْمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح:30) یہاں أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّار میں جو سختی بتائی گئی ہے، در اصل کفار کی عادات کے خلاف سختی مراد ہے، کفر کے خلاف سختی ہے۔جہاں تک بدی کا تعلق ہے وہ بدی ان کے اوپر اثر ڈالنے کی کوشش کرتی ہے اور نا مراد رہتی ہے۔وہ ان کو اپنے رنگ میں ڈھال نہیں سکتی لیکن جہاں مومنوں کے اثر قبول کرنے کا معاملہ ہے۔فرمایا رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ وہ نہایت ہی نرم اور بہت ہی تعاون کرنے والے اور جھکنے والے اور ان کے سامنے مٹ جانے والے لوگ ہیں۔پس جو کوشش بھی آپ آج جماعت احمدیہ میں اصلاح کی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے