سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 164

164 ضرورت ہے اور خدا سے مجھے ملنی چاہئے اس مدد کے لئے دعا ذریعہ بنا کرتی ہے۔پس جب بھی آپ مدد چاہتے ہیں تو مدد کے لئے پیغام بھیجا کرتے ہیں۔جب بھی آپ مدد مانگتے ہیں تو مدد کے لئے آواز دیا کرتے ہیں تو پہلی آواز خدا کی جانب اٹھنی چاہئے پہلا پیغام خدا کو بھیجا جانا چاہئے۔اگر یہ ہے تو پھر آپ موحد بندے ہیں۔پھر آپ اسباب کو اختیار کریں تو یہ شرک نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک بجز کا اظہار ہے اور خدا کی اس مالکیت کی عبادت کرنا ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے۔پس اس پہلو سے آپ کا ایمان یقیناً خالص بن جاتا ہے۔آپ کی توحید کے اوپر ایک گواہی ٹھہرتی ہے جو ہر ضرورت کے وقت آپ کے دل سے اٹھ رہی ہوتی ہے اور خدا کے بعد سب سے بڑا گواہ انسان کا اپنا نفس ہی ہے۔پس اس پہلو سے اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے دعاؤں پر انحصار بڑھا ئیں اور سب سے زیادہ تو کل دعا پر ہی رکھیں اور دعا کے ذریعے اولین رابطہ اپنے خدا سے کرنے کی عادت ڈالیں۔اپنے بچوں کو بھی دعاؤں کی اہمیت سمجھاتے رہیں اور سلیقے بتائیں آج کل جماعت کو تمام دنیا میں جو ضرورتیں در پیش ہیں اور نئے نئے رستے ترقیات کے کھل رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ نئے خطرات بھی پیدا ہور ہے ہیں۔ایک بڑی عظیم عالمی جدوجہد کی کیفیت ہے، جس میں جماعت اس نئی صدی میں داخل ہوئی ہے اور روز بروز نئے میدان کھلتے رہیں گے اور نئے میدانوں میں ہمارے قدم آگے بڑھتے رہیں گے اس لئے ابھی سے دعاؤں کی عادت خود بھی ڈالیں اور اپنے بچوں کو بھی دعاؤں کی اہمیت سمجھاتے رہیں اور دعائیں کرنے کے سلیقے سکھائیں۔اگلی نسل کو دعا پر قائم کرنا بہت ہی ضروری ہے ورنہ ہمارا اگلی نسلوں کے ساتھ سب سے زیادہ اہم پیوند کٹ جائے گا۔سب سے زیادہ اہم پیوند جو ہم اپنی اگلی نسلوں کے ساتھ قائم کر سکتے ہیں وہ یہی دعا کرنے کا پیوند ہے۔وہ پیوند جو دراصل تو خدا سے لگتا ہے لیکن ہمارا آپس کا تعلق دعا کرنے والی نسل کے طور پر قائم رہنا چاہئے اور ہماری ہر اگلی نسل اسی طرح دعا گو ہونی چاہیئے۔اسی طرح دعا پر تو کل رکھنے والی اور یقین رکھنے والی ہونی چاہئے جیسے ہمیں ہونا چاہئے یا ہماری پہلی نسلیں تھیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو فیض ہے، اس کا خلاصہ کبھی بھی ہماری نظر سے اوجھل نہیں ہونا چاہئے۔آپ کے تمام فیوض کا مخص ، آپ کے سارے فیض کا منبع اور روح اور اس کا خلاصہ یہی ہے کہ آپ نے خود بھی دعاؤں کے گر سیکھے اور دعاؤں پر انحصار کیا اور جماعت احمدیہ کو بھی دعاؤں کے ذریعے ایک زندہ خدا کے ساتھ ایک ابدی زندہ تعلق رکھنے کا سلیقہ سکھا دیا۔پس یہ اگلی نسل کا ہم پر حق ہے جس طرح ہم نے پچھلی نسلوں کا پھل کھایا اور ان سے یہ تربیت حاصل کی اور ان کے اس فیض کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمارا ایک حیرت انگیز اور عظیم الشان رشتہ قائم ہو گیا۔اسی طرح اگلی نسلوں کا ہم پر بھی حق ہے۔اپنے بچوں پر رحم کریں اور ان کو آغاز ہی سے دعائیں کرنی سکھائیں اور ان سے دعائیں کروائیں اور پھر