سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 165

165 دعا کا پھل ان کو ملے گا تو ان کی کیفیت کیسے بدل جائے گی۔غیر دنیا میں رہتے ہوئے معصوم بچوں کی حفاظت کا اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں۔تربیت کی آپ ہزار ترکیبیں کریں ان کو راہ راست پر رکھنے کے ہزار پاپڑ بیلیں مگر اس جیسا مؤثر اور کوئی ذریعہ نہیں کہ آپ ان کو دعا گو بچے بنادیں خدا تعالیٰ سے ان کا ایک ذاتی تعلق قائم کروا دیں اور بچپن ہی سے وہ اپنی دعاؤں کا پھل کھانے لگ جائیں۔پس یہ ایک دوسری نصیحت ہے کہ جہاں ہم جماعت کے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں اور اپنے لئے بھی وہاں ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی دعا گو نسلیں بنا ئیں۔" (خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 24-27) ذیلی تنظیمیں ، جماعتی لٹریچر کی تقسیم میں اپنا کردار ادا کریں (خطبہ جمعہ 23 فروری 1990ء) اس سلسلے میں آخری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کو اس کام میں خصوصیت کے ساتھ دلچسپی لینی چاہئے۔میں نے اپنے ایک گزشتہ خطبے میں یہ بتایا تھا کہ ہم نے جو لٹریچر شائع کیا ہے وہ الماریوں یا صندوقوں کی زینت بنانے کے لئے نہیں بلکہ تقسیم کے لئے کیا ہے اور ساری دنیا کی جماعتوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ جائزہ لیں کہ ان کے ملکوں میں کون کون سی غیر قو میں آباد ہیں۔چنانچہ اس ضمن میں کئی ملکوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھی رپورٹیں مل رہی ہیں اور بہت سے امراء بڑی توجہ کے ساتھ اس ہدایت کی تعمیل میں جائزے لے کر پھر مجھے رپورٹیں بھجوا رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر امراء اس خصوصی کام کو یعنی مشرقی یورپ کی قوموں سے تعلق قائم کرنا اور ان میں احمد یہ لٹریچر تقسیم کرنا، اس کام کو اگر وہ ذیلی تنظیموں سے لیں تو ان کو بھی سہولت ہو جائے گی اور ذیلی تنظیمیں غالباً بہتر رنگ میں یہ کام کرسکیں گی۔ایک امیر کے لئے کام لینے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جماعت کو عمومی ہدایت دے دے اور اس شعبے کے سیکرٹری کو مقرر کر دے کہ تم ان سے رابطے کرو۔اس طریق پر سب کام چلتے ہیں لیکن ان کاموں میں ذرا نرمی پائی جاتی ہے۔رفتار ذرا کم ہوتی ہے اور جسے انگریزی میں Casual کہا جاتا ہے۔آرام آرام سے لوگ بات کو لیتے ہیں اور اتنی زیادہ اہمیت بھی نہیں دیتے۔بعض دیتے بھی ہیں لیکن بالعموم کچھ لوگوں کو توفیق مل جاتی ہے لیکن ذیلی تنظیموں کے سپر د اگر خصوصی کام کیا جائے تو نسبتاً زیادہ افراد زیادہ ذمہ داری کے ساتھ اور مہم کی صورت میں کام کرتے ہیں۔نئی تبدیلیاں جو ذیلی تنظیموں میں کی گئی ہیں ان میں ایک یہ بھی مقصد تھا کہ اس سے پہلے جو بعض مصلحتوں کی وجہ سے امارتوں سے ذیلی تنظیموں کو بالکل الگ کر دیا گیا تھا، ان کو دوبارہ