سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 158

158 حاجت پوری کرنا چھوڑ دیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کس کس کی کریں دل یہ چاہتا ہے کہ ہر ایک کی کریں۔پس جس کسی کی بھی جتنی حاجت بھی آپ دور کر سکتے ہیں خود بھی کریں اور بچوں سے بھی کروائیں اور بچپن میں اگر اس کی عادت پڑ جائے تو اس کے نتیجے میں بچہ جو لذت محسوس کرتا ہے وہ اس کی نیکی کو دوام بخش دیتی ہے اور پھر بڑے ہو کر خدام الاحمدیہ میں جا کر یا لجنہ کی بڑی عمر کو پہنچ کر پھر ان تنظیموں کو ان میں محنت نہیں کرنی پڑے گی اور بنے بنائے با اخلاق افراد قوم کو میسر آئیں گے جو پھر بڑے بڑے کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو مستعد اور تیار پائیں گے۔مضبوط عزم اور ہمت آخر پر پانچویں بات آج کے خطاب کے لئے جو میں نے چھنی ہے وہ مضبوط عزم اور ہمت ہے۔مضبوط عزم اور ہمت اور نرم دلی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔اگر یہ ا کٹھے نہ ہوں تو ایسا انسان کمزور تو ہوگا با اخلاق نہیں ہو گا۔نرم دلی جب آپ پیدا کرتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایسا نرم دل انسان اور ایسا نرم خو انسان مشکلات کے وقت گھبرا جائے اور مصائب کا سامنا کرنے کی طاقت نہ پائے۔حضرت ابوبکر صدیق اکبر ہمیشہ ہمیش کے لئے تاریخ میں ایک کامل نمونہ کے طور پر پیش کئے جاسکتے ہیں۔یہ نمونہ اگر چہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے حاصل کیا مگر آپ کی زندگی میں ایک ایسا مقام آیا جہاں اس خلق نے نمایاں ہو کر ایک ایسا عظیم الشان کردار ادا کیا ہے کہ جس کے نتیجے میں ہمیشہ کے لئے ہم آپ کی مثال دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔بے حد نرم خو اور نرم دل ہونے کے باوجود جب اسلام پر آپ کی خلافت کے پہلے دن ہی عظیم مصیبت واقع ہوئی ہے اور مشکلات کا دور شروع ہوا ہے تو وہ شخص جو دنیا کی نظر میں اتنا نرم دل تھا، اتنا نرم خو تھا کہ معمولی سی تکلیف سے ہی اس کے آنسو رواں ہو جایا کرتے تھے۔کسی کی چھوٹی سی تکلیف بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔اتنے حیرت انگیز عزم کے ساتھ ان مشکلات کے مقابل پر کھڑا ہو گیا ہے کہ جیسے سیلاب کے سامنے کوئی عظیم الشان چٹان کھڑی ہو جاتی ہے۔ایک ذرہ بھی اس کے سرکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔اس طرح حضرت ابو بکر صدیق نے اس وقت اپنے نرم دل سے عظمت کا ایک پہاڑ نکلتا ہوا دکھا یا دنیا کو۔شکست نہ کھانے کے عزم کے خلق کی بچپن سے نشو ونما ہو پس نرم دلی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان مشکلات کے وقت کمزور ہو یا بڑھتی ہوئی مشکلات کے سامنے ہمت ہار جائے۔پچپن سے یہ خلق پیدا کرنا چاہئے کہ ہم نے شکست نہیں کھانی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ جو فقرہ ہے ایک عظیم الشان فقرہ ہے جو آپ کے اس عظیم خلق پر روشنی ڈالتا ہے کہ: