سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 3

3 میں وہ تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔محض اللہ کا فضل ہے۔ہر دفعہ حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح کام ہو گئے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہم بہر حال للہی جماعت ہیں اللہ کی خاطر کام کرتے ہیں وہ اپنے فضل سے فرشتوں کے ذریعہ کام پورے کر دیتا ہے۔لیکن خدا کے فضل کو ہم انتہا کی شکل میں اس وقت دیکھتے ہیں۔جب ہم اپنی قوتوں کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں جب ہم اپنی قوتوں کو آدھے راستہ میں چھوڑ دیتے ہیں تو پھر خدا کا فضل بھی آدھے راستے تک رہتا ہے۔اس لئے ہم کوشش کریں گے کہ جس قدر بھی ممکن ہوطوعی طور پر اپنے وقت کو بھی خدا کے حضور پیش کر دیں۔تیسری شکل یہ ہے کہ مہمانوں کے لئے اپنے گھروں کو خوب سجا دیں۔جب آپ کے مہمان آتے ہیں تو آپ اپنے گھروں کو خوب سجاتے ہیں۔اللہ کے مہمان آئیں گے تو کیا آپ اپنے گھروں کو نہیں سجائیں گے۔کیا آپ اپنی گلیوں کو صاف نہیں کریں گے۔کیا خدا کی خاطر آپ یہ خیال نہیں رکھیں گے کہ ربوہ کے بعض محلوں میں رات کو چلتے ہوئے گندی نالیوں میں بھی پاؤں پڑ جاتے ہیں۔گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ان سے بد بوئیں بھی اٹھتی ہیں۔پس جب آپ اپنے مہمانوں کی خاطر اپنے گھروں کی صفائی کرتے ہیں۔تو اب تو خدا کے مہمان آنے والے ہیں۔اس لئے اپنے گھروں کی بھی صفائی کریں۔اپنی گلیوں کی بھی صفائی کریں۔ان ڈھیروں کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں۔جو بد بو پھیلاتے ہیں۔اور اس سلسلہ میں جماعت کی جتنی بھی تنظیمیں ہیں وہ ساری تیزی کے ساتھ عملی توجہ شروع کر دیں۔یعنی سکیمیں بھی بنا ئیں اور پھر ان کو عمل میں ڈھالیں انصار الله لجنہ اماءاللہ اور خدام الاحمدیہ یہ ساری تنظیمیں کام کریں اور جلسہ سالانہ کا نظام اسکی عمومی نگرانی کرے۔اس کے بعد پھر سجاوٹ کا وقت بھی آئے گا۔میرے ذہن میں ایک نقشہ یہ بھی ہے کہ غریب کے مکان کو خوبصورت بھی بنایا جائے اور سجایا بھی جائے لیکن ابھی فورا تو اس کا وقت نہیں۔“ خطبات طاہر جلد اوّل صفحہ 247 تا 249) انصار اللہ تحریک جدید کے دفتر دوم کی طرف توجہ کرے خطبہ جمعہ 5 نومبر 1982ء) اس سے پہلے دو دفتروں میں سے ایک دفتر یعنی دفتر اول خدام الاحمدیہ کی خصوصی تحویل میں دے دیا گیا ان معنوں میں کہ وہ چندوں کی طرف خصوصی توجہ کریں۔دفتر دوم انصاراللہ کے سپرد کیا گیا کہ وہ اس طرف توجہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انصار نے اس میں بڑی محنت سے کام کیا ہے۔تیسرا دفتر ، دفتر سوم کسی ذیلی تنظیم کے سپردنہیں کیا گیا۔ہو سکتا ہے یہ بھی وجہ ہو اس میں غفلت اور کمزوری کی۔تو امید ہے کہ لجنہ اماءاللہ انشاء اللہ تعالی بڑی تیزی کے ساتھ اس طرف توجہ کرے گی اور لجنہ کا تجربہ یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کی