سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 143

143 ایک انوکھی سی شکل پیدا ہوگئی۔تحریک جدید انجمن کا رنگ رکھتی ہے اور نظام جماعت کے اوپر جہاں تک بیرون پاکستان کا تعلق ہے، بیرون ہندوستان یا بیرون بنگلہ دیش بھی شامل کر لینا چاہئے سارے نظام کی ذمہ دار تحریک جدید ہے۔لیکن یہاں ذیلی تنظیموں کے ایک قسم کے نائب کے طور پر یا مشیر کے طور پر کام کرنے لگی اور ذیلی تنظیموں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوا کہ یہ مشیر اتنا طاقتور ہے کہ اس مشیر کو ہم لگام نہیں دے سکتے اور جو مشیر تھا وہ عملاً نگران بن گیا لیکن عملاً نگران اس رنگ میں بنا کہ وکیل التبشیر بھی تفصیل سے ان باتوں پر غور کرنے کے بعد مشورے نہیں دیتا تھا بلکہ ایک دفتری طور پر ایک قسم کی دخل اندازی سی شروع ہوگئی اور دونوں جگہ بے اطمینانی کا احساس بڑھنے لگا۔جب اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد یہ ذمہ داری فرمائی تو مجھے یہ خیال آیا کہ مرکزی تنظیموں کے وقار کو بحال کرنے کے لئے جب تک یہ دنیا کے قائدین مقرر ہیں ان کو کچھ نہ کچھ اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے اور ان سے کہا جائے کہ دنیا سے تعلق رکھو اور رابطے بڑھاؤ اور سفر اختیار کرو اور معلوم تو کرو کہ کیا ہو رہا ہے۔اس کے بعد جب اہم فیصلے کرو تو تحریک جدید سے ضرور مشورہ کرو لیکن بالعموم جو ہدایتیں تمہیں خلافت سے ملتی ہیں وہ جاری کرو دنیا میں اور اگر مرکزی کہلانا ہے تو مرکزی بنو۔چنانچہ جب انہوں نے مرکزی بننا شروع کیا تو پھر بعض اور خامیاں سامنے آنی شروع ہوئیں۔بہت سے ایسے غلط فیصلے ہونے شروع ہوئے جو پہلے کام نہ ہونے کے نتیجے میں نہیں ہوتے تھے۔اب جب کام کھل کے ہونا شروع ہوا تو پتا لگا کہ یہ محدود دائرے کی اطلاعیں اور محدود دائرے کی اطلاعات جب مرکز میں پہنچتی ہیں تو مرکزی دماغ ان معلومات پر صحیح فیصلہ کرنے کا اہل نہیں بنتا۔اس لئے لازماً اس سارے نظام کو خلافت سے وابستہ کرنا پڑے گا اس طریق پر جس طریق پر دنیا کے باقی نظام وابستہ ہیں اور بیچ سے یہ جو واسطے ہیں یہ ہٹانے پڑیں گے۔چنانچہ امسال جلسہ سالانہ کے بعد میں نے مرکز یعنی پاکستان سے آئے ہوئے سلسلے کے مختلف بزرگوں اور انجمن اور تحریک اور بعض ذیلی تنظیموں کے نمائندوں سے مشورہ کیا تو سب کی بالا تفاق رائے یہی تھی کہ اس نظام میں تبدیلی کی شدید ضرورت ہے۔دنیا کے صدران مجالس براہ راست خلیفہ وقت کے سامنے جواب دہ ہوں گے چنانچہ آج میں اس تبدیلی کے متعلق اعلان کرنا چاہتا ہوں۔نظام میں تبدیلی سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدام الاحمدیہ کے نظام اور بحیثیت نظام کے تبدیل کئے جارہے ہیں صرف رابطے میں تبدیلی کا نظام مراد ہے۔تو فیصلہ یہ ہے کہ آئندہ سے جس طرح پاکستان کا صدر خدام الاحمدیہ انجمن کامبر بھی ہوتا ہے اور باقی ناظروں کی طرح براه راست خلیفہ وقت کو جوابدہ ہوتا ہے اور اس سے ہدایات لیتا ہے اور اس کے سامنے اپنے مسائل رکھتا ہے اس طرح باقی دنیا کے صدران مجلس خدام الاحمدیہ بھی براہ راست خلیفہ وقت سے تعلق رکھیں اور اپنی مرکزی