سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 120

120 ہیں اور اُس کے نتیجے میں بعض دفعہ اُن شوخیوں کی تیزی خود اُن کے نفس کو ہلاک کر دیتی ہے۔اس لئے وقف کا معاملہ بہت اہم ہے۔اُن کو یہ سمجھائیں کہ خدا کے ساتھ ایک عہد ہے ہم نے تو کیا ہے بڑے خلوص کے ساتھ اگر تم اس بات کے متحمل نہیں ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ تم واپس چلے جاؤ۔ایک گیٹ اور بھی آئے گا جب یہ بچے بلوغت کے قریب پہنچ رہے ہوں گے اُس وقت دوبارہ جماعت ان سے پوچھے گی کہ چاہتے ہو کہ نہیں چاہتے۔ایک دفعہ امریکہ میں وہ جو ڈزنی لینڈ میں ایک رائیڈ ایسی تھی جس میں بہت ہی زیادہ خوفناک موڑ آتے تھے، رفتار بھی تیر بھی اُس رائیڈ کی اور اچانک بہت تیزی کے ساتھ مڑتی تھی تو کمزور دل والوں کو خطرہ تھا کہ ممکن ہے کہ کسی کا دل ہی نہ بیٹھ جائے۔چنانچہ انہوں نے وارنگز لگائی ہوئی تھیں کہ اب بھی واپس جاسکتے ہو، اب بھی واپس جاسکتے ہو اور پھر آخری ایک وارننگ تھی سرخ رنگ میں کہ اب یہ آخری ہے اب واپس نہیں جاسکو گے۔تو وہ بھی ایک گیٹ جماعت میں آنے والا ہے جب ان کے بچوں سے جو آج وقف ہوئے ہیں ان سے پوچھا جائے گا کہ اب یہ آخری دروازہ ہے پھر تم واپس نہیں جاسکتے۔اگر زندگی کا سودا کرنے کی ہمت ہے، اگر اس بات کی توفیق ہے کہ اپنا سب کچھ خدا کے حضور پیش کر دو اور پھر کبھی واپس نہ لو۔پھر تم آگے آؤ ور نہ تم اُلٹے قدموں واپس مڑ جاؤ۔تو اُس دروازے میں داخلے کے لئے آج سے ان کو تیار کریں۔وقف وہی ہے جو وفا کے ساتھ تادم آخر قائم رہتا ہے۔ہر قسم کے زخموں کے باوجود گھٹتا ہوا انسان بھی اسی راہ پہ بڑھتا ہے واپس نہیں مڑ کرتا۔ایسے وقف کے لئے اپنی آئندہ نسلوں کو تیار کریں۔اللہ آپ کے ساتھ ہو، اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم واقفین کی ایک ایسی فوج خدا کی راہ میں پیش کریں جو ہر قسم کے ان ہتھیاروں سے مزین ہو جو خدا کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے ضروری ہوا کرتے ہیں اور پھر اُن پر اُن کو کامل دسترس ہو۔آمین۔" خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 83 100t ) ہم سب مل کر نسلوں کی نگہداشت کریں تو یہ ان نسلوں پر ایک احسان ہوگا " خطبہ جمعہ 17 فروری1989ء) سکھیں واقفین زندگی کی بیویوں کے لئے یا واقفین زندگی لڑکوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ یہ سلیقہ کہ کسی سے اس کی توفیق سے بڑھ کر نہ توقع رکھیں نہ مطالبہ کریں اور قناعت کے ساتھ کم پر راضی رہنا سیکھ لیں۔اس ضمن میں ایک اہم بات یہ بتانی چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقف کی ایک تحریک کے ساتھ یہ بھی تحریک فرمائی کہ امیر گھروں کے بچوں کے لئے گھر کے باقی افراد کو یہ قربانی کرنی چاہئے کہ اس کے وقف کی وجہ سے اس کے لئے خصوصیت کے ساتھ کچھ مالی مراعات مہیا کریں اور یہ سمجھیں کہ جتنا مالی لحاظ