سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 109
109 والی کہاوت کے طور پر مشہور ہے یہ تو ایک بہت بڑا زندگی کا المیہ ہے کہ خدا کے حضور پیش کرنے کے لئے آپ کو بس گندہ بچہ نظر آیا ہے، ناکارہ محض بچہ نظر آیا ہے جو ایسی گندی عادتیں لے کر پلا ہے کہ آپ اُس کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔اس لئے یہ جو تازہ کھیپ آنے والی ہے بچوں کی اس میں ہمارے پاس خدا کے فضل سے بہت سا وقت ہے اور اب ہم اگر ان کی پرورش اور تربیت سے غافل رہیں تو خدا کے حضور مجرم ٹھہریں گے اور ہر گز پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اتفاقاًیہ واقعات ہو گئے ہیں۔اس لئے والدین کو چاہئے کہ ان بچوں کے اوپر سب سے پہلے خود گہری نظر رکھیں اور جیسا کہ میں بیان کروں گا بعض تربیتی امور کی طرف خصوصیت سے توجہ دیں اور اگر خدانخواستہ وہ سمجھتے ہوں کہ بچہ اپنے تابع طبع کے لحاظ سے وقف کے اہل نہیں ہے تو اُن کو دیانتداری اور تقویٰ کے ساتھ جماعت کو مطلع کرنا چاہئے کہ میں نے تو اپنی صاف نیت سے خدا کے حضور ایک تحفہ پیش کرنا چاہا تھا مگر بد قسمتی سے اس بچے میں یہ یہ باتیں ہیں اگر ان کے باوجود جماعت اس کو لینے کے لئے تیار ہے تو میں حاضر ہوں ورنہ اس وقف کو منسوخ کر دیا جائے۔پس اس طریق پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ اب ہمیں آئندہ ان واقفین نو کی تربیت کرنی ہے۔واقفین نو میں اخلاق حسنہ نظر آنے چاہئیں جہاں تک اخلاق حسنہ کا تعلق ہے اس سلسلے میں جو صفات جماعت میں نظر آنی چاہئیں وہی صفات واقفین میں بھی نظر آنی چاہئیں بلکہ بدرجہ اولیٰ نظر آنی چاہئیں۔ان صفات حسنہ سے متعلق ، ان اخلاق سے متعلق میں مختلف خطبات میں آپ کے سامنے مختلف پروگرام رکھتا رہا ہوں اور اُن سب کو ان بچوں کی تربیت میں خصوصیت سے پیش نظر رکھیں۔خلاصہ ہر واقف زندگی بچہ جو وقف نو میں شامل ہے بچپن سے ہی اُس کو سیچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہونی چاہئے اور یہ نفرت اُس کو گو یا ماں کے دودھ میں ملنی چاہئے اور باپ کی پرورش کی بانہوں میں۔جس طرح ریڈی ایشن کسی چیز کے اندر سرایت کرتی ہے اس طرح سچائی اُس کے دل میں ڈوبنی چاہئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو پہلے سے بہت بڑھ کر سچا ہونا پڑے گا۔ضروری نہیں ہے کہ سب واقفین زندگی کے والدین سچائی کے اُس اعلیٰ معیار پر قائم ہوں جو اعلیٰ درجے کے مومنوں کے لئے ضروری ہے اس لئے اب ان بچوں کی خاطر اُن کو اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی اور پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط کے ساتھ گھر میں گفتگو کا انداز بنانا ہوگا اور احتیاط کرنی ہوگی کہ لغو باتوں کے طور پر یا مذاق کے طور پر بھی وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولیں گے کیونکہ یہ ایک خدا کی مقدس امانت اب آپ کے گھر میں پل رہی ہے اور اس مقدس امانت کے کچھ تقاضے ہیں جن کو آپ نے بہر حال پورا کرنا ہے۔اس لئے ایسے گھروں کے ماحول سچائی کے لحاظ سے نہایت صاف ستھرے اور پاکیزہ ہو جانے چاہئیں۔