سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 93

93 جائے گا وہ پھر آپ کو دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ کام ہی ایسا ہے دنیا والے جس طرح نشہ کرتے ہیں تو نشہ ان کو سنبھال لیتا ہے اسی طرح تبلیغ کا ایسا کام ہے کہ جو نشے سے بڑھ کر طاقت رکھتا ہے اور تبلیغ کرنے والے کو سنبھال لیتا ہے۔داعی الی اللہ پھر داعی الی اللہ ہی بنا رہتا ہے اس کو کسی اور کام میں دلچسپی ہی نہیں رہتی ، بعض داعی الی اللہ تو اپنے گھر کے حالات بھول جاتے ہیں، اپنے خاندانوں کو بھول جاتے ہیں، دن رات ایک کام کی لگن ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں جب احمدیت تیزی سے پھیلی ہے تو یہ وجہ تھی۔ایسے ایسے صحابہ تھے جن کو اپنے تن بدن کی کسی اور چیز کی ہوش ہی نہیں رہتی تھی۔دعوت الی اللہ میں مصروف ہوتے تھے تو ہر دوسری چیز بھول جایا کرتے تھے۔فَصُرُ هُنَّ إِلَيْكَ کے معنی تعلیم اور تربیت کا کام جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے علمی پہلو سے بڑھ کر محبت اور پیار کے تعلق کے قیام کے ذریعے ہوتا ہے۔جس طرح مرغی اپنے پروں کے نیچے لیتی ہے بچوں کو اور وہی اس کی تربیت ہے۔جماعت کو اپنے پروں کے نیچے لینے کی عادت ڈالنی پڑے گی عہدیداروں کو اور پروں کے نیچے لے کر پروں میں سمیٹنے کی صرف نہیں، طاقت دے کر پھر آگے چھوڑنے کی ، پھر اڑنے کی مشق کرانے کی ، پھر آزاد زندگی گزارنے کی۔یہ ہے وہ تربیت جو دعوت الی اللہ کی تیاری کے لئے ضروری ہے۔جس کا راز ہمیں فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ نے بتا دیا کہ اے ابراہیم ! میں تیرے لئے ضرور قوموں کو زندہ کروں گا ،زندہ میں ہی کرتا ہوں لیکن تجھے وہ کرنا ہو گا جو میں تجھے بتاتا ہوں۔محبت اور پیار سے پرندوں کو پکڑ اور اپنے ساتھ لگالے اپنی محبت ان کے دل میں پیدا کر اور پھر ان کی تربیت کر پھر دیکھ کس طرح وہ تیری آواز کے تابع وہ سارے کرشمے کر کے دکھا ئیں گے جو تو ان سے توقع رکھے گا۔اس سلسلے میں جہاں تک علمی پروگرام کا تعلق ہے ہم اس کے مکمل ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے۔ایک مربی کو جامعہ میں تربیت دینے کے لئے سات سال لگ جاتے ہیں اور جب وہ نکلتا ہے تو ابھی کچا ہوتا ہے۔مختلف میدانوں میں جب اس سے مقابلہ کروایا جاتا ہے تو اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ سات سال کی تعلیم کے با وجود بعض دفعہ بڑے نمایاں نمبر حاصل کرنے کے باوجود عملی میدان میں جب پڑتا ہے تو کئی قسم کی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وقت پر بات بھول جاتی ہے، گفتگو کا سلیقہ یاد نہیں رہتا، دلیل یاد بھی تھی تو اس وقت الٹی پلیٹی دلیل شروع ہو جاتی ہے جو طریقے اور داؤ کے مطابق نہیں ہوتی۔علم ہے مگر استعمال درست نہیں لیتا۔کہیں نئے اعتراض آتے ہیں تو آدمی حیران اوسان ہو جاتا ہے کہ اوہو! اس کا جواب تو میں نے کتاب میں پڑھا کوئی نہیں تھا۔