سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 94

94 دعوت الی اللہ میں علم کی کمی حائل نہ ہو تو عملاً جو تبلیغ ہے وہ علمی تبلیغ سے کچھ مختلف ہو جایا کرتی ہے اور محض علمی تیاری بھی اگر آپ کی کرائی جائے تو میں نے بتایا ہے Whole Time سات سال کا کورس کرنا پڑے گا۔اب کہاں جماعت اتنی توفیق رکھتی ہے، کہاں اتنا صبر ہے ہمیں کہ ہر شخص کے لئے سات سات سال کے کورس کریں اور پھر تو قع رکھیں کہ وہ تبلیغ کرے۔لیکن عملاً تجربہ میں اگر فور داخل ہو جائیں اور توکل رکھیں اللہ تعالیٰ پر اور دعا کریں تو اتنے لمبے علم کی ضرورت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ خود مربی بن جاتا ہے خدا تعالیٰ خود معلم ہو جاتا ہے۔ایک داعی الی اللہ اگر خالصہ اللہ اللہ کی محبت میں کام شروع کرتا ہے، اس پر تو کل کر کے کام شروع کرتا ہے تو بسا اوقات خدا اس کی ایسی ایسی حیرت انگیز رہنمائی فرماتا ہے کہ اُسے پتا ہی نہیں ہوتا کہ کس طرح اس کو یہ دلیل ذہن میں آئی اور کس طرح خدا تعالیٰ نے اس کو عظیم الشان غلبہ عطا کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جہلاء کو بھی اللہ تعالیٰ بڑے بڑے علماء پر غلبہ عطا کر دیا کرتا تھا۔اس لئے کہ وہ نیک اور مخلص اور متقی لوگ تھے اپنے علم پر توکل کرنے والے نہیں تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے سہارے اس کے فضل پر تو کل کرنے والے تھے اور سارے علموں کا سر چشمہ خدا ہے، وہی گر سکھاتا ہے کہ کیسے تم غالب آؤ۔حضرت موسیٰ جب فرعون سے گفتگو کر رہے تھے تو قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ بار بار آپ کی توجہ خدا کی طرف مبذول ہوتی تھی۔اللہ تعالیٰ ہی ان کو جوابات سکھاتا چلا جارہا تھا کہ یہ جواب دو، یہ جواب دو، یہ جواب دو۔اس لئے وہی خدا ہے ہمارا۔وہ آپ کی بھی اسی طرح پرورش کرے گا ، آپ کی بھی اسی طرح سر پرستی کرے گا۔اس لئے علم کی کمی کو عذر نہ رکھیں علم کی کمی کا بہانہ لے کر میدان سے نہ بھاگیں۔جو کچھ آپ کے پاس ہے وہ خدا کے سپر د کر دیں پھر دیکھیں خدا اپنا حصہ کتنا ڈالتا ہے۔یہ بات میں وسیع تجربے کے بعد کہہ رہا ہوں۔جو احمدی بھی لاعلمی کے باوجود تبلیغ کے میدان میں کودتے ہیں ہر قسم کے دشمن سے واسطے کے باوجود کبھی بھی خفت محسوس نہیں کرتے کبھی خدا ان کو ذلیل نہیں ہونے دیتا۔تبلیغ کے ذرائع جن کو آج کے دور میں استعمال کیا جا سکتا ہے پھر آج کل کے زمانے میں تو بہت سے ایسے نئے ذرائع ایجاد ہو گئے ہیں جس سے تبلیغ کی اہلیت کی کمی یا زبانیں نہ جانے کا نقص بڑی آسانی سے دور ہو جاتا ہے۔کیسٹس ہیں ان میں عربی کے سوال جواب کے پروگرام بھی درج ہیں، عربی کے لیکچر بھی درج ہیں مختلف مسائل کے اوپر ، ٹرکش زبان میں کیسٹس ہیں اور دنیا کی افریقین اور دیگر ایشیائی زبانوں اور بعض مغربی زبانوں مثلاً انگریزی ، فریج ، جرمن ان سب