سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 92
92 رشتہ داروں کی کمی کی وجہ سے یا بوڑھا ہونے کی وجہ سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔کئی مسافرا یکسیڈنٹس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہر طرف ایسے طبقے پھیلے پڑے ہیں جن کوئی زندگی دینے کا کام آپ کے سپرد ہے اور ہر طبقے کو لو ظ رکھ کر اس کام کو آگے بڑھانا ہوگا۔جب اتنے طبقے سامنے آجائیں اور ایک مربی پیش نظر رکھے کہ ہاں ان سب کو مخاطب کرنا میرا کام ہے تو لا زما اس کے اندر Panic پیدا ہوگی ، اس کے اندر خوف و ہراس پیدا ہوگا کہ میرے پاس چار تو گنتی کے آدمی ہیں جو تبلیغ کر رہے ہیں چار یا پانچ ہی تو ہیں جو اپنی رپورٹیں لا کر مجھے دیتے رہتے ہیں ، ان کو میں سب جگہ کیسے استعمال کر سکتا ہوں۔اس لئے اگر وہ اپنی زمینوں کی فکر کرے گا تو اس کے لئے لا ز ما اور مزدور حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔جس طرح زمین کا کام بڑھتا ہے تو مزدوروں کی تلاش بڑھ جاتی ہے زمیندار کو۔اس طرح راہ مولیٰ کے مزدور اس کو تلاش کرنے پڑیں گے کیونکہ خدا کی زمینیں بڑھ گئی ہیں۔انصار اور دیگر عہدیداران کو خلیفہ وقت کی نصیحت کو معمولی انداز میں نہیں لینا چاہئے پس ایک کام کی طرف عدم توجہ، دوسرے کام کی طرف سے عدم توجہ پر مبذول ہو جاتی ہے۔ایک کام کی طرف کما حقہ توجہ کریں تو دوسری توجہ خود بخود بیدار ہوتی ہے۔اسی طرح کام ایک دوسرے کو سہارا دے کر آگے بڑھتے ہیں۔اس لئے سب سے اہم ذمہ داری کسی ملک کے امیر کی ہے، اس ملک کے مربی کی ہے اور اس ملک کی مجلس عاملہ کی من حیث المجموع ذمہ داری ہے اور متعلقہ عہد یداران کی ہے، اسی طرح خدام ہیں، انصار ہیں۔اگر سارے اپنی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر حکمت کے ساتھ مسلسل آگے بڑھیں گے اور جو نصیحت کی جاتی ہے اس کو معمولی سمجھ کے نظر انداز نہیں کریں گے تو دیکھتے دیکھتے جماعتوں کی کایا پلٹ جائے گی۔بعض دفعہ سنتے ہیں کہتے ہیں ہاں خلیفہ وقت نے کہہ دیا ہے ٹھیک ہے تھوڑی دیر کے بعد یہ بھی بھول جائے گا ہم بھی بھول جائیں گے۔میں تو انشاء اللہ نہیں بھولوں گا کیونکہ مجھے خدایا دکر دیتا ہے، آپ بھولیں گے تو جرم کریں گے۔میری تو دن رات کی یہ تمنا ہے ، دن رات کی دل میں ایک آگ لگی ہوئی ہے میں کیسے بھول سکتا ہوں۔آج جماعت کی سب سے بڑی ذمہ داری خدا کا پیغام پہنچانا ہے اس لئے اللہ مجھے یاد کراتا رہے گا اور میں یاد رکھوں گا اور یاد آپ کو بھی کراتا رہوں گا لیکن اگر آپ نے غفلت کی وجہ سے اس بات کو بھلایا تو یاد رکھیں آپ خدا کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔نہ بھولیں نہ بھولنے دیں۔آج جماعت کی سب سے بڑی سب سے اہم ذمہ داری خدا کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہے اور اس میں ہم پہلے ہی پیچھے رہ گئے ہیں۔کون سا وقت رہ گیا ہے ضائع کرنے کا؟ ہر شخص کو تربیت دیں پیارا اور محبت سے سمجھا کر آگے بڑھا ئیں اور جو ایک دفعہ اس میدان کا سوار بن