سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 81
81 دخل دیں بلکہ ایسے پروگرام بنائیں جو جلسوں کی شکل میں بھی ہوں عملی پروگراموں کی شکل میں بھی ہوں اور تربیتی رسالوں اور کتب کی شکل میں بھی ہوں اور ان کا صح نظریہ ہو کہ ہم نے ماں باپ کی تربیت کرنی ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کی تربیت کر سکیں اور ایسے پروگرام اس طرح بنانے چاہئیں کہ وہ خشک نہ ہوں ان میں دلچپسی ہو۔بعض ماؤں کو اللہ تعالیٰ نے بڑا سلیقہ دیا ہوتا ہے بچوں کی تربیت کا اور وہ گہری نظر کے ساتھ مطالعہ بھی کرتی چلی جاتی ہیں۔اس طرح بعض باپوں کو بھی اللہ تعالیٰ خاص شعور بخشتا ہے اور اس قسم کے واقعات تاریخ انبیاء میں بھی پھیلے پڑے ہیں۔قرآن کریم نے انبیاء کی جو تاریخ محفوظ کی ہے اس میں یہ واقعات پھیلے پڑے ہیں۔اور اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں یہ واقعات پھیلے پڑے ہیں اور خود آپ کے بچپن میں یہ واقعات پھیلے پڑے ہیں آپ اگر اپنے بچپن کی یادیں تازہ کریں کسی دن تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ جب بہت چھوٹے ہوتے تھے تو کن چیزوں نے آپ پر بد اثرات ڈالے تھے اور کن چیزوں نے آپ پر نیک اثرات ڈالے تھے۔کون سی چیزیں جن کی یاد میں آج بھی دل مہک اٹھتا ہے اور وہ آپ کے بعض نیکیوں کے ساتھ متعلق ہیں۔قرآن کریم جو فرشتے مقرر فرماتا ہے ان کا ایک نہایت ہی لطیف نظام ہماری فطرت کے اندر جاری ہے۔ہم اکثر اس کو محسوس نہیں کرتے ہیں اگر آپ بیدار مغزی کے ساتھ ان فرشتوں سے تعلق جوڑنے کی کوشش کریں تو آپ کا تعلق ان سے قائم بھی ہوسکتا ہے۔ہر انسان کے اندر کچھ خوبیاں ہیں، کچھ بدیاں ہیں اور ان کی ایک تاریخ اس کے ذہن میں محفوظ چلی آ رہی ہے۔اگر اس کو اپنے اندر ڈوبنے کا سلیقہ ہو، عادت ہو سو چنے اور غور کرنے کی تو بسا اوقات یہ ممکن ہے کہ اگر سب نہیں تو اکثر بدیوں کے ساتھ سفر کرتا ہوا بچپن کے اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں پہلی دفعہ وہ بدی پیدا ہوئی اور اس کے لئے دل میں کشش پیدا ہوئی ، کیوں ہوئی تھی اور وہ بدی کا فرشتہ جو اس کے ساتھ ہے اس کو شیطان کہا جاتا ہے۔پتہ ہے کہ کون سا شیطان تھا کس وقت آیا تھا کس وقت اس نے میرے ذہن کے کس حصہ پر قبضہ کر لیا تھا اور آج تک وہ چل رہا ہے ساتھ اور اسی طرح اس بدی کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور آگے بھاگتا چلا جاتا ہے۔تَوزُهُمْ أَذًا ( مریم): 84) آگے بڑھاتا ہے اور اکساتا چلا جاتا ہے اور اسی طرح اگر وہ اپنی نیکیوں کا تجزیہ کرے تو اس کو معلوم ہوگا کہ بچپن میں کسی زمانہ میں کسی خاص چیز کے ساتھ کسی خاص وجہ سے پیار ہو گیا تھا اور وہ وجہ اس کی نیکی کا فرشتہ ہے وہ اس کی اس نیکی کی حفاظت کرتا ہے، ہمیشہ اور اس کے قدم آگے بڑھاتا ہے۔اگر آپ Consciously آنکھیں کھول کر ذہن کو روشن کر کے انبیاء کی سیرت اور سنت کا مطالعہ کریں اور پھر خود اپنے واقعات پر غور کریں اور اپنے نفس میں ڈو میں تو آپ کے اندر سے ایک نہایت ہی شاندار مربی رونما ہوگا۔آپ کی ذات کے اندر سے وہ شخص پیدا ہوگا جو اللہ کے فضل سے نہایت ہی عمدہ تربیت