سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 465 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 465

465 آپ نے یہ آزمائش کی اس آزمائش میں آپ مارے جائیں گے۔پس قرآن کریم نے انهُ لَكُمْ عَدُوّ مبین کہہ کے بتا دیا کہ وہ تو تاک میں بیٹھا ہے۔شیطان کو تو ذرہ بھی تم نے موقع دیا تو وہ تمہیں اچک کے لے جائے گا۔پس اس پہلو سے اپنی ساری زندگی کی ، اپنے لحد لحد کی حفاظت ضروری ہو جاتی ہے۔فَإِنْ زَلَلْتُم اگر تم ڈگمگائے بعد اس کے کہ کھلے کھلے نشان تمہارے پاس آچکے ہیں فَاعْلَمُوا أَن اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بہت غالب حکمت والا اور بزرگی والا ہے۔احمدیوں کے لئے اس میں خصوصیت سے یہ سبق ہے کہ ان کے پاس اس کثرت سے اس دور میں نشان آئے ہیں کہ ان کے ڈگمگانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔آئے دن اللہ تعالیٰ اپنے تازہ نشان آپ کو دکھاتا ہے اور اس کے باوجوداگر خدانخواستہ آپ کے قدم ڈگمگا ئیں تو بہت بڑی محرومی ہوگی۔ان آیات کی تشریح کے طور پر میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔سنن الترمذی سے یہ حدیث لی گئی ہے۔انس بن مالک سے روایت ہے کہ عہد نبوی میں دو بھائی تھے ان میں سے ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور حاضر رہتا تھا، میں نے خصوصیت سے اس لئے یہ حدیث چنی ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں صرف ابو ہریرہ کا نام آتا ہے کہ گویا وہی رہتے تھے مسجد میں۔ابو ہریرہ تو دن رات وہیں رہتے تھے باہر نکلتے ہی نہیں تھے مگر بکثرت ایسے صحابہ تھے جو جتنا بھی ان کو وقت میسر ہو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور ابو ہریرہ کے علاوہ بھی بعض ان میں سے ایسے تھے جنہوں نے اپنا روز مرہ کا کام چھوڑ دیا تھا۔یعنی بظاہر سکتے تھے کچھ کمانے والے نہیں تھے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بھائی حاضر رہتا تھا اور دوسرا کام میں مصروف رہتا تھا۔کام کرنے والے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی کہ مجھ اکیلے پر ہی بوجھ ڈالا ہوا ہے۔ہر وقت یہ آپ کے پاس بیٹھا رہتا ہے اور میں اکیلا گھر چلانے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہوں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا "لعَلكَ تُرزَقُ به “ کیا خبر عین ممکن ہے کہ تجھے جو رزق عطا کیا جا رہا ہے اس کے سبب سے ہو۔بہت عظیم الشان ایک ستر وابستہ ہے اس حدیث میں، ایک ستر چھپا ہوا ہے اور وہ سب خدمت دین کرنے والوں کے لئے اور ان کے خاندانوں کے لئے ہے اور اسی طرح ان واقفین زندگی کے لئے ہے جنہوں نے کلیہ اپنے آپ کو خدا کے حضور پیش کر دیا ہے۔بہت سے ان کے خاندان والے، رشتہ دار یہ سمجھتے ہونگے کہ ہم ان پر احسان کر رہے ہیں ، ہم نے ان کے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں ، ان کے بیوی بچوں کا خیال رکھتے ہیں اور اسی طرح آج جماعت جرمنی میں بکثرت ایسے بڑے اور بچے اور جوان اور عورتیں ہیں جن کو اپنے گھروں کی ہوش نہیں اور جو