سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 375
375 لوگ مرد و خواتین اکٹھے ہوں گے تو خصوصیت سے ذکر سے متعلق ان کو تربیت دینا بھی آپ کا فرض ہے۔یعنی ذکر کا مضمون سن کر جو طبیعتوں میں طبعی طور ایک پر شوق پیدا ہو گا۔دلوں میں ہیجان پیدا ہوں گے۔ان کوطریقہ سکھانا اور یہ بتانا کہ کس طرح ذکر کے مضمون کو آپ بعد میں جاری رکھیں اور آگے جا کے دوسروں کو بھی سمجھا ئیں۔یہ موضوع ان اجتماعات کا خاص طور پر مقرر کر لیں۔۔۔۔۔مجلس انصاراللہ ویسٹ کوسٹ یو کے کو پیغام۔۔۔۔مجلس انصار اللہ ویسٹ کوسٹ ریجن یو ایس اے کو خصوصیت سے یہ پیغام ہے کہ جیسا کہ آیت کریمہ میں آپ نے سن لیا ہے اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَيِنُ الْقُلُوبُ تو خبر دار ذکر الہی سے ہی دل اطمینان پاسکتے ہیں اس کے سوا کوئی صورت نہیں ہے۔آپ امریکہ ، ایک ایسے ملک میں کام کر رہے ہیں، یارہ رہے ہیں۔جہاں اس کے بالکل برعکس ایک نعرہ ہے جو بلند کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام کوششیں اس نعرہ کو سچا ثابت کرنے کے لئے وقف ہیں کہ خبردار دنیا کی پیروی ہی میں تمہیں سکون ملے گا اور ساری طمانیتیں دنیا کمانے میں ہیں اور دنیا کی لذتیں حاصل کرنے میں ہیں۔تو ان دونوں نعروں کا کتنا فرق ہے۔ایک قرآن کا نعرہ ہے وہ آسمان کا نعرہ ہے اور جو امریکہ کا نعرہ ہے وہ زمین کا نعرہ ہے۔لیکن یہ نعرہ ایسا ہے جس کے جھوٹ سارے ملک میں ظاہر وباہر ہیں۔کوئی دل نہیں ہے جو وہاں طمانیت پاسکا ہو۔دولتوں کے انبار لگے پڑے ہیں۔عیش وعشرت کے سارے سامان مہیا ہیں۔جتنے بھی انسان سوچ سکتا تھا یا بنا سکتا تھا۔وہ امریکہ کے قدموں میں پڑے ہیں لیکن ہر دل بے قرار ہے، ہر دل بے چین ہے جتنے زیادہ ڈرگ میں چین ڈھونڈ نے والے امریکہ میں ہوں گے شاید کسی ملک میں اتنے کم ہوں۔جتنے پاگل خانے ان لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو بے اطمینانی کے نتیجے میں پاگل ہوئے ہیں۔یعنی ساری زندگی کی بے چینیوں نے ان کو پاگل بنا دیا ہے۔جتنے پاگل خانے امریکہ میں آباد ہیں ساری دنیا میں کہیں آباد نہیں۔اتنے زیادہ کہ ان پاگل خانوں میں چونکہ وہ سمانہیں سکتے ان سے زائد بچے ہوئے پاگل وہ (Old People Home) میں بھی چلے گئے، آرام گاہوں میں بھی پہنچ گئے۔اور ابھی تک پاگل زیادہ ہیں اور جگہیں کم ہیں۔اور نفسیات کے ماہرین نے جو تجزیہ کیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ یہ سارے پاگل وہ ہیں جو زندگی کی بے اطمینانی سے پاگل ہوئے ہیں۔جو دنیا کا سب سے زیادہ امیر ملک، جو دنیا کو امن دینے کا دعویٰ کر رہا ہے۔اس کے اپنے گھر امن سے خالی پڑے ہیں۔اپنے سینے اجڑے ہوئے ہیں۔تو آپ ان کو بتا ئیں اور خصوصیت سے ان اقوام کو جو صدیوں سے مظلوم ہیں اور اب وہ کسی طرح طمانیت کی تلاش کر رہی ہیں۔ان کو سمجھائیں کہ Infriorty Complex یعنی احساس کمتری میں کہیں طمانیت نہیں ملے گی آپ کو۔انتقام میں کوئی طمانیت نہیں ہے۔دنیا کی لذتوں کی