سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 347
347 نئی روح کے ساتھ قائم ہوا ہے اور اسی حد تک قائم ہوا۔جس حد تک خدا نے چاہا کہ یتعلق قائم ہو۔پس نفس کے تعلق میں اور مخلوق کے تعلق میں اور اسباب کے تعلق میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامل مثال بن گئے جس حد تک آپ اپنے نفس کا لحاظ رکھتے تھے اور دوسروں کے نفوس کا لحاظ رکھتے تھے وہ ایک خاص تفریق جو اپنے نفس اور غیروں کے درمیان کی جاتی تھی۔وہ تجتل کی ایک بہت ہی اعلیٰ مثال ہے جس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان تعلقات کو ایک نئی روح ملتی ہے، نئی روشنی عطا ہوتی ہے۔ویسا ہی اگر ہم کریں اور ویسا ہی اسباب سے تعلق رکھیں جیسا حضرت اقدس محمد رسول اللہ نے اسباب سے تعلق توڑنے کے بعد پھر دوبارہ خدا کی خاطر قائم فرمایا ہے۔نجات کا آخری ذریعہ تو یہی اس دنیا میں نجات کا آخری ذریعہ بلکہ پہلا اور آخری ذریعہ ہے اس سے بہتر نجات کی کوئی اور تعریف ممکن نہیں دنیا بھر کے مذاہب میں آپ تلاش کرلیں مگر یہ تعریف جو تبتل اور پھر دوبارہ تعلق کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر غور کرنے کے بعد ہمیں سمجھ آتی ہے اس سے بہتر نجات کی کوئی اور تعریف ممکن نہیں ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے۔وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ( الاحزاب : 72 ) تم نجات کی راہیں پوچھ رہے ہو ہم تمہیں فوز عظیم کی راہ بتاتے ہیں۔تم نجات کی کیا باتیں کرتے ہو ہم نجات کی ایسی راہ بتاتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر نجات ممکن نہیں ہے اور وہ نجات خدا اور محمد رسول اللہ کی متابعت میں ہے۔اللہ کی اطاعت کرو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اس میں ساری نجات ہے۔پس میں جو نجات کا مضمون اس کے ساتھ باندھ رہا ہوں تو اپنی طرف سے نہیں بلکہ قرآن کریم نے واضح طور پر اس کو نجات ہی کے مضمون کے طور پر پیش فرمایا ہے۔اب میں آپ کے سامنے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلہ اللہ علیہ وسلم کے تجبل کی چند مثالیں رکھتا ہوں یہ تو ایک بہت ہی وسیع مضمون ہے اور بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر چند ایسی مثالیں جن سے آپ کو یہ مضمون سمجھنے میں آسانی ہوگی جو میں نے چینی ہیں۔ایک نصیحت کے طور پر بخاری۔کتاب الرقاق باب قَوْل النَّبِيِّ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ۔یہ عنوان حضرت امام بخاری نے باندھا ہے۔حضرت ابن عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھوں کو پکڑا اور فرمایا تو دنیا میں ایسا بن جا گویا تو پردیسی ہے یا راہ گزر مسافر ہے۔( بخاری کتاب الرقاق حدیث نمبر :5932) ی تل کی وہ تعریف ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر سب سے زیادہ صادق آئی اور اس