سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 334

334 جائے تو ایسا شخص لازماً خدا کی طرف جھکے گا اور اس کا دنیا سے تبتل ہوگا اور تعلق کا قدم اللہ کی طرف آگے بڑھے گا۔پس تبتل کا مضمون بہت ہی باریک مضمون ہے۔بڑی لطافت کے ساتھ ، گہری نظر کے ساتھ اتر کر دیکھنا پڑتا ہے۔مثالیں سامنے رکھ کر ان پر غور کریں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ کس طرح بار بار آپ نے اللہ سے تتل کیا ہے اور غیر اللہ کی طرف جھک گئے ہیں۔جب ہمیشہ دین غالب رہے گا اور دین کے مفادات غالب رہیں گے تو سچا مظلوم بھی دین سے بددل کرنے کے خیال سے ایسی نفرت کرے گا جیسے اس کو آگ میں پھینکا جا رہا ہو۔وہ اپنی ذات میں ان باتوں کو دیا جائے گا تاکہ خدانخواستہ کوئی اور بھی ہلاک نہ ہو جائے۔ایسا شخص پھر ہلاک نہیں ہوا کرتا جو دوسروں کی ہلاکت کا موجب نہ بنے وہ خود کبھی ہلاک نہیں کیا جاتا۔جو دوسروں کو ہلاکت سے بچانے کیلئے اپنے نفس پر ایک ہلاکت طاری کر لیتا ہے اللہ کے فضل کا ہاتھ ضرور اس کی طرف بڑھتا ہے اور اسے ضرور اٹھاتا ہے اور بلند مقامات کی طرف لے کر جاتا ہے۔مگر دنیا کی ہمدردیاں لینے کی خاطر دنیا سے اپنے دکھ پھولنے والے نہ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے رہتے ہیں اور ان کی وجہ سے بہت لوگ ٹھو کر کھاتے ہیں اور بہت بہت ابتلا اور فتنے بنتے ہیں اور جب ان کو سمجھایا جائے تو کہتے ہیں کہ واقعہ درست ہے۔میں درست واقعات کی بات کر رہا ہوں۔جھوٹ کی بات نہیں کر رہا، بہتان کی بات نہیں کر رہا۔جھوٹ اور بہتان باندھ کر دین اور دین والوں سے متنفر کرنا تو بہت بڑا گناہ ہے اور بہت بڑے عذاب کا تقاضا کرتا ہے۔میں نفس کے دھوکے میں مبتلا ہونے والوں کی بات کر رہا ہوں جو بیچ دیکھتے ہیں، واقعہ درست ہے جس کے خلاف ان کو شکایات ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ میری دین کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ میں آپ نقصان اٹھا جاؤں اور کسی اور کی ٹھوکر کا موجب نہ بنوں۔یہ کچی مامتا جس کی مثال حضرت سلیمان کے فیصلے کی صورت میں ہمیں دکھائی دیتی ہے۔سچی ممتا دوعورتوں کا آپس میں جھگڑا ہوا۔دو عورتوں کے بہت پیارے دو بچے تھے۔ایک کا بچہ مر گیا تو وہ مامتا میں ایسی پاگل ہوئی کہ اس نے کہا کہ میں تو بچے کے بغیر رہ نہیں سکتی۔چنانچہ اس نے دوسری عورت کا بچہ اس سے چھین لیا اور اسے اپنا بنا لیا۔دونوں عورتیں جھگڑ رہی تھیں اور کسی کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیسے فیصلہ کریں۔حضرت سلیمان کی عدالت میں ان کو پہنچایا گیا۔بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان نے جب دونوں طرف کی باتیں سنیں تو فیصلہ فرمایا کہ آسان بات تو یہی ہے کہ اس بچے کے دوٹکڑے کر دیئے جائیں۔آدھا ایک کو دے دیا جائے اور آدھا دوسری کو دے دیا جائے۔کیونکہ ہم تو عالم الغیب نہیں۔ہمیں نہیں پتا کہ کس کا ہے۔پس یہ ناممکن ہے کہ ایک کو محروم کر کے دوسری کو دیا جائے۔ہوسکتا ہے کہ وہ جسے محروم کیا جائے وہی کچی ماں ہواس لئے ایک ہی علاج ہے کہ اس کو دوٹکڑے کر دیا جائے۔جس کا بچہ تھا اس کی چھینیں نکل گئیں۔اس نے واویلا