سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 322
322 (البقرہ: 287) اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اس لئے آپ اگر اجتماع میں شامل ہونے والے یا تربیتی کلاسز پر آنے والے بچوں پر یا بڑوں پر ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالیں گے تو ایک قسم کی خدائی کا دعوی کرنے والی بات ہے۔جو جھوٹی خدائی ہے کیونکہ سچا خدا تو بوجھ نہیں ڈالتا۔یہ جھوٹے خدا ہی ہیں جو اپنی بے وقوفی سے بوجھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔میں نے لفظ تو بہت سخت بولالیکن جو آخری تجزیہ ہے وہ یہی بنتا ہے۔انسان جب بھی خدا کی صفات سے ہٹ کر قدم اٹھاتا ہے تو عملاً ایک قسم کا جھوٹا خدا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اگر چہ وہ بالا رادہ نہ بھی ہو اگر بالا رادہ ہوتو وہ شرک ہے اور بہت بڑا گناہ ہے لیکن اگر غفلت کی حالت میں نا سمجھی میں کیا جائے تو شرک تو نہیں مگر شرک کے نقصانات ضرور رکھتا ہے کیونکہ انسان کو غیر اللہ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔صفات باری تعالیٰ سے ہٹ کر آپ جو بھی کام کریں گے اس میں فائدے سے محروم رہ جائیں گے۔اس لئے تربیتی اجتماعات کو اس رنگ میں ترتیب دیں کہ جو کچھ وہاں پڑھائیں اس میں صرف نمونہ دیں اور وہ نمونے اتنے پکا دیں اور اس محبت سے پڑھائیں کہ وہ نمونے ذہن نشین بھی ہوں اور دلنشین بھی ہوں۔ان سے پیار ہو جائے۔مثلاً اگر آپ ساری نماز نہیں پڑھا سکتے تو سورہ فاتحہ پڑھائیں اور اتنا پڑھائیں اور اس طرح بار بار پڑھائیں کہ اس کے معانی سے محبت ہو جائے اور اس کا مضمون ذہن میں نقش ہو جائے وہ یاد ہو اور اس طرح یاد ہو کہ پڑھنے کے ساتھ ذہن کو ترجمہ نہ کرنا پڑے بلکہ عربی الفاظ کے ساتھ ساتھ ہی وہ ترجمہ ذہن میں نقش ہو۔ایک انسان کو جب سورۃ فاتحہ سے محبت پیدا ہو جاتی ہے تو باقی نماز کے لئے سورۃ فاتحہ رستہ صاف کرتی ہے اور صراط مستقیم کا ایک یہ مطلب ہے۔سورہ فاتحہ میں وہ صراط مستقیم ہے جس پر ایک دفعہ ڈالا جائے تو انسان کے قدم وہاں رکتے نہیں ہیں کہ جہاں تک ہاتھ پکڑ کر لے گئے وہاں جا کر کھڑے ہو گئے بلکہ صراط مستقیم وہ صراط ہے جس کا سلسلہ انبیاء" تک چلتا ہے۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحہ : 7) حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک دراز ہیں۔وہ سارے سفر جو آپ نے صراط مستقیم میں روحانیت کے طے کئے ہیں اور جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں بھی آیا ہے جو میں نے ابھی پڑھ کر سنائی ہے۔وہ صراط مستقیم وہی ہے جس کا سورہ فاتحہ میں ذکر ملتا ہے۔اجتماعات پر تین دن پڑھانے کے بعد مجالس کو اس سے آگے Take Over کرنے کا کہیں پس سورۃ فاتحہ پر زور دیں اور بہت محنت کے ساتھ، عقل کے ساتھ ، محبت کے ساتھ ذہن نشیں کرائیں ، دل نشین کرائیں تو پھر عبادت کے جو باقی حصے ہیں وہ سورہ فاتحہ ہاتھ پکڑ کر آپ ہی آگے چلا دے گی۔پھر Home Task کے طور پر ان کو دیں۔ان کو کہیں کہ یہ ہم نے تمہیں یہاں سکھایا ہے۔باقی