سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 311

311 خدا! اپنی جناب سے سلطان نصیر عطا فرما اور پھر جب نظر ڈالے گا تو سلطان نصیر دکھائی دینے لگیں گے۔ایسے کارکن اُس کے سامنے آئیں گے جو پہلے اُس سے دین کی خدمت میں کوئی مقام نہ بنا سکے۔بطور خادمِ دین کے اُن کا شمار نہیں ہوتا لیکن جب پیار اور محبت سے، دعا کے بعد اُن کے سر پر ہاتھ رکھا جائے ، اُن کو کہا جائے ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو اللہ کی تحریک کے نتیجہ میں وہ مدد کے لئے تیار ہوتے ہیں اور اس طرح ہر شعبے کی ٹیم بنی شروع ہو جاتی ہے۔ایک ہاتھ ایک نہیں رہتا بلکہ اُس کے ساتھ دس ، پندرہ ، ہیں ایسے مخلصین اکٹھے ہو جاتے ہیں جو اُس کام میں اُس سیکرٹری کے مددگار بن جاتے ہیں۔پھر وہ سنبھالتے ہیں مختلف ریجنز بنا کر سنبھالتے ہیں، مختلف علاقوں کو آپس میں تقسیم کر کے یا جو بھی طریقے کا رہو، آپس میں ایک دوسرے کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور مل کر پھر وہ ایک تفصیلی جائزہ تیار کرتے ہیں۔جو چارٹوں کی صورت میں اُن کے دفتر کے سامنے آویزاں رہتا ہے۔اُن سے جب پوچھو آپ کی جماعت میں تربیتی لحاظ سے نماز کس جگہ ہے؟ تو وہ فوری طور پر بتا سکتے ہیں کہ فلاں علاقے میں نماز کی یہ کیفیت ، فلاں علاقے میں یہ کیفیت ہے، فلاں میں یہ ہے۔جب ہم نے چارج لیا تھا تو سو میں سے پچاس یا ستر تھے جونماز پڑھا کرتے تھے اب اتنے مہینے کی کوششوں سے ہر مہینے میں ہم نظر رکھ رہے ہیں۔خدا کے فضل سے پانچ اور دس اور میں اس طرح شامل ہوتے ہوتے اب تقریباً ساری جماعت نماز با جماعت شروع کر چکی ہے۔آپ بے شک پانی گرنے دیں گھبرائیں نہیں اور نہ اُس طرف دیکھیں اب۔وہ جو وہاں تماشہ ہور ہا ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے جو یہاں باتیں آپ سن رہے ہیں ان میں قیمت ہے۔اس لئے اصل یہ تربیت ہونی چاہئے آپ کی کہ کچھ بھی ہو جائے جو وہاں کے منتظمین کا کام ہے کہ وہ سنبھالیں۔جب چھوٹی سی بات کے اوپر سب گردنیں موڑ موڑ کر ایک واقعہ کی طرف دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ایک آواز پر کان دھرتے ہیں تو کان تو دو ہی ہیں۔اچھی آواز کو چھوڑ کر ایک بے معنی آواز کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔یہ جو طریق کا رہے حکمت کا طریق نہیں ہے، مومنانہ طریق نہیں ہے نظم وضبط پیدا کریں۔مجھے یاد ہے ایک واقعہ تاریخ میں پڑھا کرتے تھے کہ ایک بادشاہ نے ہاتھی کا کھیل دیکھا۔ساتھ اس کے، اردگر داس کے سپاہی بھی کھڑے تھے اور ایک راجپوتوں کا دستہ بھی آیا ہوا تھا۔مغل بادشاہ کا ہاتھی مست ہو گیا اور وہ مختلف سمتوں میں دوڑنے لگا جب وہ اُس کے اپنے سپاہیوں کی طرف دوڑا تو تتر بتر ہوئے اور گھبرا کے پیچھے ہٹ گئے۔جب راجپوتوں کی طرف بڑھا تو اُن میں ایک نے بھی پیچھے قدم نہیں اٹھایا اور تیار تھے کہ جس کے اوپر سے ہاتھی گزر جائے بے شک گزر جائے۔اس کیفیت کو دیکھ کر بادشاہ کو یہ سبق ملا فوجی تربیت کے لحاظ سے ہم اس ملک سے ابھی بہت پیچھے ہیں جس کو ہم فتح کر چکے ہیں۔پس احمدیوں کو نظم وضبط اور اعلیٰ کردار کا ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ کوئی بھی افراتفری ہو کوئی واقعہ ہو۔جن کا تعلق ہے وہ نظر ڈالیں۔باقیوں کو