سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 310

310 جائے اور اس کے بعد انتظار کریں کہ یوں ہو گئی ہوگی اور پھر رپورٹوں میں میرا وقت بھی ضائع کریں۔ایسی باتیں کریں جو نشانے پر بیٹھنے والی ہوں۔میں نے دیکھا، مجھے شکار کا شوق رہا ہے کہ ڈار میں اگر بغیر نشانہ لئے آپ فائز کرتے ہیں تو بہت کم اتفاق ہوتا ہے کہ کوئی پرندہ ہاتھ آئے لیکن ایک پرندہ بھی بیٹھا ہوا گر نشانہ لے کر ماریں گے تو وہ ہاتھ آئے گا۔پس کام ایسا کریں کہ نشانہ ہوا اور نشانے کے سامنے کوئی پرندہ بھی ہو۔پتا ہو کہ کون سامنے بیٹھا ہوا ہے اور اُس کے لئے تفصیلی جائزے کے بغیر یہ مکن نہیں ہے آپ کو دکھائی تو دے۔Kassal میں کیا ہو رہا ہے، Kalfroa میں کیا ہو رہا ہے، ہیمبرگ میں کیا ہورہا ہے، وہاں خدام کیا کرتے ہیں ، کون کون سی بیماریوں میں مبتلا ہیں، کون گندے کا روباروں میں مبتلا ہے، کون جتھے بنا کر غنڈا گردی کروارہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔یہ سب تربیت کی باتیں ہیں۔جن پر نظر نہ رکھنے کے نتیجے میں بعض دفعہ فساد بڑھ جاتا ہے، جب قتل ہو جاتے ہیں تو پھر اطلاع دی جاتی ہے کہ جماعت احمدیہ میں بھی ایسا واقعہ ہو گیا ہے۔دل کٹ جاتا ہے، اُس پس منظر کو سوچ کر جس میں ایک لمبے عرصے سے ایک ظالم اور قاتل تیار ہو رہا تھا اور جماعت نے کوئی نظر نہیں رکھی۔وہ نگران جو تربیت سے تعلق رکھتے ہیں خواہ وہ خدام الاحمدیہ کے ہوں، لجنہ کے ہوں ،انصار کے ہوں، جماعت کے ہوں۔وہ اگر ہوش مندی سے کام کر رہے ہوں تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی بیماری بڑھ کر پھٹنے کے مقام تک جا پہنچی ہو اور اُن کو پتا نہ لگے۔جب پھوڑا پھٹ پڑے جب بد بودار پیپ بہہ نکلے تب وہ اطلاعیں دیں کہ یہ واقعہ ہو گیا ہے۔پس باشعور ہو کر کام کریں خدا تعالیٰ مومنوں سے جس حکمت کے تقاضے کرتا ہے اُس حکمت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کریں تو پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کے کاموں میں کتنی برکت پڑتی ہے۔یہ جتنے خدام میرے سامنے اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں اللہ کے فضل سے بہت بھاری اجتماع ہے۔جماعت جرمنی میں جب میں آغاز میں آیا تھا تو ہمارا جماعتی اجلاس مسجد فرینکفورٹ کے کونے میں ہوا تھا۔باقی مسجد خالی پڑی تھی۔اب آپ کے ایک کونے میں مسجد فرینکفورٹ آ جاتی ہے لیکن جتنی برکت ہے اتنی کام کی ذمہ داریاں نبھی تو بڑھ گئی ہیں۔اتنی زیادہ تفصیلی جائزے کی ضرورت ہے اور گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ جماعت میں کون کون سی کمزوریاں ہیں ان کو کیسے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔اب مثلا اگلا قدم لیتے ہیں۔سیکرٹری تربیت اپنے ساتھ سلطان نصیر تیار کرے۔جب ایک سیکرٹری تربیت جائزہ لیتا ہے تو سب سے پہلے تو یہ محسوس کرے گا کہ میں اس کام کے لئے کافی نہیں ہوں۔میرے دو ہاتھ اتنے بڑے کام نہیں کر سکتے۔میں نے دنیا میں اپنے اور بھی کام کرنے ہیں۔جتنا وقت میں جماعت کے لئے نکال سکتا ہوں، دیتا ہوں۔اُس کے باوجود یہ ناممکن ہے کہ میں ہر مجلس یا ہر جماعت کی تفصیلی نگرانی کر سکوں۔اس وقت وہ دعا اُس کے کام آئے گی جس کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اے