سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 301
301 اٹھنا ہے اور خطبہ سننا ہے۔یہ علامت ہے کہ خدا نے نصیحت کے لئے ان لوگوں کو ہمارے قریب کر دیا ہے۔اس وقت فائدہ اٹھائیں اس وقت نصیحت سے ان کو ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیں۔دوسرے جرمنی سے ایک خاتون کا خط آیا کہ میں اپنے بچے کی ایک پیاری سی ادا بتاتی ہوں کہ ایک خطبہ کے موقع پر غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو میرا بچہ ٹیلی ویژن کی طرف دوڑا اور جیب سے رومال نکال رہا تھا۔میں نے کہا یہ کیا کر رہے؟ تو اس نے کہا کہ میں آنسو پونچھنے جارہا ہوں۔پس یہ جونئی نسل ہے یہ ٹیلی ویژن کے ذریعہ خطبات کی برکت سے ایک عجیب انقلابی دور میں داخل ہو چکی ہے۔یہاں سے نصیحتیں شروع کریں، ان کو اپنائیں ، ان کو اسلامی قدروں کے قریب کریں اور جو بڑے نسبتا نرم ہو رہے ہیں لیکن پہلے سخت دل تھے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو نصیحت کریں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت جرمنی کم سے کم پہلے اپنے تمدن اور معاشرے کو اسلامی بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اور اگر ایسا ہوگا تو باقی جرمنی کے لئے بھی امید ہوسکتی ہے ورنہ امید کا کوئی پہلو باقی نظر نہیں آتا۔" خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 343-362) تربیت و اصلاح و ارشاد کے حوالہ سے جماعتی و ذیلی تنظیموں کے عہد یداران کو نصائح (خطبہ جمعہ 28 مئی 1993ء) اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آج مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کا سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے اور یہ چودھواں سالانہ اجتماع ہے۔اس کے ساتھ ہی آج مجلس انصاراللہ عزیز آباد کراچی کا بھی ایک اجتماع ہورہا ہے اور انہوں نے فیکس کے ذریعے یہ درخواست کی ہے کہ اس اجتماع میں ہمیں بھی مخاطب کریں اور ہمیں بھی پیش نظر رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے جمعہ کا خاص تعلق جماعت احمدیہ سے رکھ دیا ہے اور جمعہ کے لفظ میں جتنے بھی جمع ہونے کے مفاہیم شامل ہیں، جتنے معنی بھی جمع کے پائے جاتے ہیں آج اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ پر وہ پوری طرح اطلاق پا رہے ہیں۔مواصلاتی سیارے کے ذریعہ تمام عالم کے احمدیوں کو خطبہ کے ذریعہ اکٹھا کر دیا ہے یہ وہ جماعت ہے جسے پیشگوئیوں کے مطابق پہلوں سے ملایا گیا ، یہ وہ جماعت ہے جس میں تمام