سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 222 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 222

222 جو ہم سے پہلے گزر گئے اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے دعائیں کرتے کرتے انہوں نے جان دی تبھی مقبول ہوں گی جب آپ ان دعاؤں کے رخ پر سفر کرنے کے ارادے کریں گے اور ارادے بھی نہیں کریں گے بلکہ جب ان ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشش کریں گے تو پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی رفتار کو کس طرح غیر معمولی الہی تائید حاصل ہوتی ہے۔پس یہ ستر اسی ، سو دو سو یورپ اور امریکہ اور کینیڈا کی اطلاعات ایسی تکلیف دہ ہیں کہ دل حیران ہو جاتا ہے کہ ان کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور کیوں یہ یقین نہیں کرتے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے چند افراد چند اور آدمی پیدا کر رہے ہیں تو باقی افراد کیوں بانجھ پڑے ہیں۔وہ بانجھ نہیں ہیں آپ نے ان کیلئے وہ ماحول نہیں پیدا کیا جس میں وہ نشو و نما پا سکتے ہیں ان کی اتنی تربیت نہیں کی ، ان کی مدد نہیں کی ، ان کے مسائل پر پورا غور نہیں کیا۔یہ جائزہ نہیں لیا کہ آپ کس طرح تبلیغ کر رہے ہیں، اس میں کیا کیا نقص رہ گئے ہیں؟ کون سے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں تھے جو نہیں کئے ، کون سے ذرائع ہیں جن کا ذکر کاغذوں میں تو ملتا ہے لیکن عمل کی دنیا میں ناپید ہیں۔ان سے جائزوں کے بغیر جس کو میں محاسبہ کا نام دے رہا ہوں آپ کے سفر کا آغاز ہو ہی نہیں سکتا۔آخری نصیحت پس آج کے خطبہ میں آخری نصیحت یہی ہے کہ آپ محاسبہ کریں اور منصوبہ بنانے سے پہلے خوب اچھی طرح معلوم کر لیں کہ ساری جماعت میں کہاں کہاں کیا کیا کیفیت ہے، کس صلاحیت کے لوگ ہیں؟ کون سے ایسے ہیں جو تبلیغی لحاظ سے نشو و نما کی صلاحیت اس حد تک رکھتے ہیں کہ آپ انکو تھوڑ اسا بھی سمجھا ئیں اور ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھائیں تو وہ چل سکتے ہیں؟ کتنے ایسے ہیں جو بھی اس معیار سے نیچے ہیں اور ان کی صلاحیتیں مخفی ہیں ابھی ان پر زیادہ محنت اور کام کی ضرورت ہے۔ہر پہلو سے یہ جائزے لے کر جب آپ مکمل طور پر اپنی پہچان کر لیں گے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں تو اس کا نام محاسبہ ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ محاسبہ ہی کا دوسرا نام روشنی ہے۔ہر سفر کے آغاز سے پہلے اگر اندھیروں کا سفر ہو تو روشنی کی ضرورت ہے اور محاسبہ آپ کو روشنی عطا کرتا ہے۔اگر اپنا محاسبہ کئے بغیر آپ سفر کریں گے تو آپ ٹھوکریں کھائیں گے۔آپ کو پتہ نہیں چلے گا کہ کس رخ پر جانا ہے اور وہ سفر اگر طے بھی ہو تو بڑی مصیبت اور مشکل سے طے ہوگا لیکن تیز رفتاری سے ہرگز نہیں۔روشنی مل جائے تو اندھیروں کا سینہ چیرتے ہوئے وہ آگے آگے بڑھتی ہے اور آپ کو ساتھ لئے لئے جس رفتار سے آپ چاہیں آپ کو آگے بھگائے پھرتی ہے اور بہت قوت اور یقین اور حو صلے کے ساتھ آپ پر خطر را ہوں کے بھی سفر کر سکتے ہیں کیونکہ آپ کو خطرات دور سے دکھائی دیتے ہیں۔پتا لگتا ہے کہاں کوئی جانور ہے، کہاں کوئی پتھر ہے، کہاں کوئی گڑھا ہے، کہاں سٹرک کا کنارہ ہے، کہاں جھاڑیاں