سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 178
178 کے ساتھ آکر گھاس چر نہیں سکتا۔یہی حال جھوٹے کا ہے اور وہ جھاڑیاں جوار دگر دجھوٹ کی جھاڑیاں ہوتی ہیں وہ اُس کی پناہ گاہ بنتی ہیں اور گھاس کے میدان کی مثال اس کی بدیوں کی مثال ہے۔ایک جھوٹا شخص جب بُرائیوں میں مبتلا ہوتا ہے تو اسے بھی خطرہ ہوتا ہے کہ وہ پکڑا نہ جائے کیونکہ سزا ہونی ہے لیکن ہر برائی کے وقت اُس کا سہارا جھوٹ ہوتا ہے اور اس کی نیت میں یہ سہارا داخل ہوتا ہے۔اگر وہ برائی کے وقت اپنی نیت کا تجزیہ کرے اور یہ سوچے کہ اگر میں پکڑا جاؤں گا تو میں کیا کروں گا۔اس وقت دراصل اس کی نیت کی حقیقت اس پر واضح ہو سکتی ہے۔لازماً بھاری اکثریت اپنے نفس کو یہ جواب دے گی کہ میں یہ بہانہ بناؤں گا اور وہ بہانہ بناؤں گا۔یہ جھوٹ بولوں گا یا وہ جھوٹ بولوں گا جو نسبتاً بیوقوف لوگ ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہیں اور جو نسبتاً چالاک لوگ ہیں۔وہ بھی جھوٹ بولتے ہیں اور دونوں جھوٹ کے سہارے لیتے ہیں۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ بیوقوف کو سچا بہانہ بنانا نہیں آتا اور چالاک آدمی نسبتاً زیادہ بہتر بہانے بنالیتا ہے لیکن دن بدن جتنی بھی جھاڑیاں اُن کی پناہ گاہیں ہیں وہ سب جھوٹ ہیں۔اگر ان کے سامنے یہ سوال در پیش ہو کہ اگر میں پکڑا جاؤں گا تو میں کیا کروں گا ؟ اور جواب یہ ہو کہ میں سچ بولوں گا تو پھر وہ اُس گھاس کے میدان میں چھلانگ لگا کر بے فکر ہو کر وہ گھاس چرنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ جھوٹ کی جھاڑیاں اُس سے دُور ہٹ جائیں گی اور اردگرد سے کوئی جھاڑی دکھائی نہیں دے گی اور وہ محسوس کرے گا کہ گویا میں ننگا ہو گیا ہوں اور اگر واقعہ کوئی مجرم اس سے سرزدہو اور وہ پکڑا جائے تو پہلے نیت نہ بھی ہو تو بہت بڑا ابتلاء انسان کو پیش آتا ہے اور اس وقت وہ کہتا ہے اچھا پھر اس دفعہ میں جھوٹ بول لیتا ہوں تو جس شخص کی پناہ جھوٹ ہے اس کی ذات میں خدا کیسے داخل ہو سکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو ہمیں یہ سکھایا کہ اَعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِیم۔میں شیطان رجیم سے اپنے رب کی پناہ مانگتا ہوں اور شیطان رجیم جھوٹ ہے۔جھوٹ کی ایک مجسم شکل کا نام شیطان ہے تو ایک طرف تو خدا نے اُسے یہ سکھایا ہو کہ قدم قدم پر یہ دعائیں مانگو میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔دوسری طرف ہر قدم پر وہ جانتا ہو کہ خدا کی پناہ اُس کے کام نہیں آئے گی۔اس کا دل گواہی دیتا ہو کہ یہ فرضی پناہ ہے۔اصل پناہ شیطان کی پناہ ہے۔ہرطرف سے وہ جھولی کھول کر مجھے اپنی جھولی میں پناہ دینے کے لئے تیار بیٹھا ہے اور کہتا ہے اچھلو! جس طرح ماں بچے کو اٹھانے کے لئے اپنی جھولی پھیلا دیتی ہے اس طرح وہ شیطان کی جھولی کو دیکھتا ہے اور اس میں چھلانگ لگا کر پناہ لینے کی نیت سے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے اور تیسری دنیا ہو یا کوئی اور دنیا جہاں بھی آپ جائیں گے وہاں آپ کو جھوٹ اور جرم کا یہی رشتہ دکھائی دے گا۔اللہ والا بنے کے لئے ضروری ہے کہ جھوٹ کی ان جھاڑیوں کا قلع قمع کیا جائے اور ہر قدم پر یہ فیصلے کئے جائیں کہ اگر مجھ سے کوئی جرم سرزد ہو تو میں نے جھوٹ کی پناہ ہر گز نہیں لینی اور اس فیصلہ کے بعد مجرم کی سزا قبول