سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 5
5 نیکی کے ہر میدان میں پہلے سے آگے ہی آگے بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ہمارا ہر اجتماع خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پہلے سے زیادہ با برکت اور زیادہ پر رونق ہوتا ہے اور ہر اجتماع پر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ شامل ہونے والے نئی امنگیں اور نئے ولولے لے کر واپس جاتے ہیں اور ان کا آنے والا سال پچھلے سال سے ہر پہلو سے بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کا یہ ایک ایسا زندہ نشان ہے جسے دنیا کی کوئی مخالفت کبھی بھی جماعت احمدیہ سے چھین نہیں سکی۔اور کبھی بھی دنیا کی کوئی مخالفت اللہ کی اس نصرت کے نشان کو جماعت احمدیہ سے چھین نہیں سکے گی۔ہم انشاء اللہ تعالیٰ اس کے فضل اور اسی کے رحم کے ساتھ اس کی رحمت اور نصرت اور برکتوں کے سایہ تلے آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔اعداد و شمار کے لحاظ سے بعض پہلوؤں سے اگر چہ تعداد میں معمولی سی کمی نظر آتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مجموعی لحاظ سے خدا کے فضل سے تعداد میں یعنی آج پہلے دن شامل ہونے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔مجالس کی تعداد کی شرکت کا جہاں تک تعلق ہے گذشتہ سال سے یہ شرکت کم ہے یعنی 732 کے مقابل پر آج جس وقت رجسٹریشن بند کی گئی اس وقت تک 671 مجالس شریک ہوئی تھیں اور اراکین کی شرکت کے لحاظ سے بھی بہت معمولی یعنی 31 کی کمی ہے لیکن اس کے مقابل پر زائرین جو رجسٹرڈ نہیں ہوئے اور اس تعداد میں شامل نہیں۔ان کی تعداد گزشتہ سال سے تقریبا 996 زیادہ ہے۔ایک پہلو سے جو معمولی سی کمی واقع ہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دوسرے پہلو سے اس کو پورا فرما دیا ہے اور تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور ہمارے دل اس کی رضا پر بہت راضی ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔جہاں تک سائیکل سواران کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس دفعہ انصار نے نئی منزلیں طے کی ہیں۔اس میں بہت سی ایسی مجالس شامل ہوئی ہیں جو اس سے پہلے کبھی شامل نہیں ہوئی تھیں مثلاً جھنگ ،سیالکوٹ ، راولپنڈی۔، ملتان اور اوکاڑہ کی مجالس پہلے کبھی سائیکل سوار بھیجنے کی توفیق نہیں پاتی تھیں۔اب اللہ کے فضل سے انہوں نے بھی انصار سائیکل سوار وفود یہاں بھیجوائے ہیں۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کچھ اور منزلیں بھی اس لحاظ سے طے ہوئی ہیں کہ پہلے جو انصار سائیکلوں پر آیا کرتے تھے ان کی اوسط عمر بالعموم چھوٹی ہوتی تھی یعنی خدام کی عمر سے نکل کر جب وہ انصار اللہ میں داخل ہوتے تھے تو قریب کے زمانہ میں وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے تھے کہ سائیکل پر سفر کرسکیں۔گزشتہ سال خدا تعالیٰ کے فضل سے کچھ دوست نسبتا زیادہ عمر کے بھی سائیکلوں پر تشریف لائے تھے لیکن اس سال ان کوششوں میں بہت نمایاں اضافہ ہوا جو انصار کی جواں ہمتی کا اس لحاظ سے ایک نشان ہے کہ سائیکل سواران میں ایک اسی (80) سالہ بزرگ بھی شامل ہیں۔یہ بزرگ مکرم چوہدری عطاء اللہ صاحب ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے توفیق پاتے ہوئے بڑی جواں ہمتی کے ساتھ چک 117 چھور ضلع شیخو پورہ سے سائیکل پر ربوہ پہنچے ہیں یہ تو نسبتا نزدیک کا فاصلہ ہے۔انصار کے