سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 6
6 ایک جواں ہمت رکن مکرم علی محمد صاحب جن کی عمر 75 سال ہے تھر پارکر سندھ سے 700 میل کا سفر کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ان کے ساتھ ایک نو مسلم نوجوان ہیں جن کے والدین ابھی تک ہندو ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے قبول اسلام کی توفیق پائی ہے۔اس سال خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر بھی سائیکل پر آئے تھے ان کو ایسا لطف آیا کہ اب انصار اللہ کے اجتماع پر بھی ساتھ چل پڑے اور اس بزرگ دوست علی محمد صاحب کے ساتھی بن کر پھر تشریف لائے ہیں۔انصار کو خدام سے آگے بڑھنا چاہئے پس اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔احمدی بوڑھے دن بدن جوان ہوتے جارہے ہیں۔انصار اللہ کے لئے یہ خوشی کی بات ہے اور خدام الاحمدیہ کے لئے ایک لحاظ سے لمحہ فکریہ۔بوڑھوں اور جوانوں کا ایک مقابلہ ہے جس میں پہلے تو میں انصار کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔یعنی چھ مہینے پہلے تک یہی کیفیت تھی کیونکہ میں بھی با قاعدہ مجلس انصاراللہ کا ایک رکن تھا۔اگر چہ خدام بھی ہمارے اپنے بھائی اور بچے ہیں لیکن مقابلہ کی اسلامی روح کے پیش نظر میری دلی کوشش بھی یہی ہوتی تھی اور دعا بھی یہی ہوتی تھی کہ انصار آگے بڑھیں لیکن اب تو دونوں میں سانجھا ہو گیا ہوں۔اس لئے یہ بہت مشکل ہے کہ ایک کے لئے دوسرے سے زیادہ دعا کروں اب تو یہ حال ہے کہ دونوں میں سے جو جیتے گا اسی کی خوشی ہوگی۔آپ کو اپنے اپنے دائرہ میں یہ رشک کا مقابلہ جاری رکھنا چاہئے اور اپنے اپنے دائرہ میں پہلے سے بڑھ کر دعائیں کرنی چاہئیں انصار کی پوری کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اپنے اوپر سے بڑھاپے کا داغ مٹائیں اور جوانوں کو جواں ہمتی سے پھیلنج کریں اور جوانوں کی بھی پوری کوشش ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو جو صحت اور توانائی نسبتاً زیادہ بخشی ہے۔وہ اس کی لاج رکھیں اور بوڑھوں کو آگے نہ نکلنے دیں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔ہماری اجتماعی زندگی کے بعض پہلو ایسے ہیں جن میں انصار کو بہر حال خدام پر فوقیت حاصل ہے۔وہ عمر کے لحاظ سے جماعت کے ایسے طبقہ میں شامل ہیں جن کو عموماً عبادت کی زیادہ توفیق ملتی ہے۔دعاؤں کی زیادہ توفیق ملتی ہے۔بعض انصار تو ایسے بھی ہیں جو لیٹے رہتے ہیں کچھ بھی نہیں کر سکتے مگر ان کی دعاؤں میں اتنی قوت اور اتنی شوکت ہوتی ہے کہ وہ لیٹے لیٹے ہزاروں چلنے پھرنے والوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ایسے ہی انصار بزرگوں میں سے حضرت مولوی محمد الدین صاحب ایک ہیں جن کی عمر اس وقت سو سال سے کچھ تجاوز کر چکی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم اور نہایت مخلص خدام میں سے ہیں۔چار پائی پر پڑے ہوئے ہیں۔بولنے کی بھی پوری طاقت نہیں لیکن جب میں پین سے واپس آکر ان سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ تمام عرصہ وہ دعائیں کرتے رہے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مسجد بشارت سپین کی افتتاحی تقریبات کو کامیاب کرے۔نیز فرمایا کہ میرے دل میں یہ حسرت رہی کہ کاش ! میں بھی شامل ہو سکتا