سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 128
128 میں بہت سی کمی موجود ہے اور اگر ہم اپنے دیہات کے احمدیوں اور چھوٹے بچوں اور نو جوانوں کو بھی سامنے رکھیں تو آپ یہ بات معلوم کر کے یقینا دکھ محسوس کریں گے کہ ایک اچھے احمدی مسلمان کا جو معیار ہونا چاہئے علمی اور روزانہ کے دستور کا وہ اس بنیادی سطح پر آپ کوتسلی بخش صورت میں دکھائی نہیں دے گا۔ذیلی تنظیموں کو تربیت کے سلسلہ میں ابھی بہت محنت کرنا ہے میں جب سفر کیا کرتا تھا وقف جدید کے سلسلے میں یا خدام الاحمدیہ کے یا بعد میں انصار اللہ کے سلسلے میں تو اکثر میرا رجحان اس طرف ہوا کرتا تھا کہ بجائے اس کے کہ تقریر کر کے اور جوش دلا کے واپس آجاؤں مجالس میں بیٹھ کر پوچھا کرتا تھا کہ آپ کلمہ سنائیں۔سورۃ فاتحہ سنائیں اور نماز کا ترجمہ بتا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے حالات سے متعلق کوئی سوال کر دیا۔اس دوران مجھ پر یہ ایک انکشاف ہوا کہ اس پہلو سے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور دیگر تنظیموں کو ابھی بہت محنت کرنا باقی ہے اور اسی دوران مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ صحیح تلفظ میں بہت نقائص پائے جاتے ہیں اور سورۃ فاتحہ جن کو آتی بھی ہے یا نماز کا باقی حصہ جن کو از بر بھی ہے وہ بھی صحیح عمدہ تلفظ کے ساتھ اس کو ادا نہیں کر سکتے اور اسی طرح ان کو تر جمہ میں بھی یا تو وقتیں پیش آتی تھیں یا بعض لوگوں کو تر جمہ آتا ہی نہیں تھا۔اصل تربیت تو نماز نے کرنی ہے تو اصل تربیت تو نماز نے کرنی ہے۔اگر ہم اپنی نمازوں کے لوازمات درست نہ کریں تو با وجوداس کے کہ ہم تعلق باللہ پر زور دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا لطف اٹھا ئیں نماز میں مگر وہ لطف اٹھانے کا جو طریق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا تھا اس سے غافل رہتے ہوئے ہم ہرگز اس لطف اٹھانے کے متعلق وہ تو قعات نہیں رکھ سکتے جو ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتب میں پڑھے ہوئے تربیت یافتہ متعلم یا ایسے طالب علم کو حقیقی روحانی لذتیں حاصل ہو سکتی ہیں اور یہ ترقیات اس کو نصیب ہو سکتی ہیں۔ان کے ساتھ ایک ایسا شخص مقابلہ نہیں کر سکتا جو ان باتوں کے ذاتی علم سے عاری ہوا اور نماز جو وہ پڑھتا ہے اس کے مطالب سے ناواقف ہو اور محض محبت کے نام پر خدا تعالیٰ سے کچھ باتیں کرتا ہو۔محبت دونوں صورتوں میں ضروری ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں۔خواہ ایک بہت ہی بڑا عالم جو نماز کے ایک ایک لفظ کی تہہ تک بھی پہنچ سکتا ہو اور اس کے ہر قسم کے مطالب پر اس کو عبور ہواگر نماز پڑھے اور خدا کی محبت سے عاری ہو تو اس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا لیکن یہ کہنا کہ صرف محبت کافی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھائے ہوئے طریق سے الگ رہ کر وہ محبت کافی ہو سکتی ہے یہ درست نہیں۔کیونکہ محبت بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہم نے سیکھنی ہے اور نماز میں جو آپ نے قرآن کریم کی آیات چنی یا مثلاً