سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 110
110 قناعت کا واقفین نو سے بڑا گہرا تعلق ہے قناعت کے متعلق میں نے کہا تھا اس کا واقفین سے بڑا گہرا تعلق ہے۔بچپن ہی سے ان بچوں کو قانع بنانا چاہئے اور حرص و ہوا سے بے رغبتی پیدا کرنی چاہئے اور عقل اور فہم کے ساتھ اگر والدین شروع سے یہ تربیت کریں تو ایسا ہونا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔دیانت اور امانت کے اعلیٰ مقام تک اُن کو پہنچانا ضروری ہے۔مزاح کے اندر پاکیزگی ہونی چاہئے بچپن سے اُن کے اندر مزاج میں شگفتگی پیدا کرنی چاہئے۔ترش روئی وقف کے ساتھ پہلو بہ پہلو نہیں چل سکتی۔ترش رو واقفین زندگی ہمیشہ جماعت میں مسائل پیدا کیا کرتے ہیں اور بعض دفعہ خطرناک فتنے بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں۔اس لئے خوش مزاجی اور اس کے ساتھ حمل یعنی کسی کی بات کو برداشت کرنا یہ صفت بھی واقفین بچوں میں بہت ضروری ہے۔یعنی یہ دونوں صفات واقفین بچوں میں بہت ضروری ہیں۔مذاق اچھی چیز ہے یعنی مزاح لیکن مزاح کے اندر پاکیزگی ہونی چاہئے اور مزاح کی پاکیزگی دو طرح سے ہوا کرتی ہے۔کئی طرح سے ہو سکتی ہے لیکن میرے ذہن میں اس وقت دو باتیں ہیں خاص طور پر۔ایک تو یہ کہ گندے لطائف کے ذریعے دل بہلانے اور اپنے یا غیروں کے دل بہلانے کی عادت نہیں ہونی چاہئے اور دوسرے یہ کہ لطافت ہو اُس میں ، مذاق اور مزاح کے لئے ہم لطافت کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں یعنی لطیفہ کہتے ہیں اُس کو۔لطیفہ کا مطلب ہی یہی ہے کہ بہت ہی نفیس چیز ہے اور ہر قسم کی کرختگی اور بھونڈھا پن لطافت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ کثافت سے تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ ہندوستان کی اعلیٰ تہذیب میں جب بھی ایسے خاندانوں میں جہاں اچھی روایات ہیں کوئی بچہ ایسا لطیفہ بیان کرتا تھا جو بھونڈھا ہواُس کو کہا جاتا تھا کہ یہ لطیفہ نہیں ہے یہ کثیفہ ہے۔یہ تو بھانڈھ پن ہے۔تو بھانڈھ پن اور اچھے مزاح میں بڑا فرق ہے۔اس لئے جو مزاح ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں کہیں کہیں نظر آتا ہے کیونکہ اکثر مزاح کے واقعات اب محفوظ نہیں ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے صحابہ کی زندگی میں وہ مزاح نظر آتا ہے اور خلیفہ اسیح الثانی کی طبیعت میں بھی بڑا مزاح تھا لیکن اُس مزاح کے ساتھ دونوں قسم کی پاکیزگی تھی لیکن بعض ایسے دوستوں کو بھی میں نے دیکھا جنہوں نے مزاح سے یہ رخصت تو حاصل کر لی کہ مزاح میں کبھی وقت گزار لینا کچھ کوئی بری بات نہیں ہے لیکن یہ فرق نہیں کر سکے کہ مزاح کے ساتھ پاکیزگی ضروری ہے۔چنانچہ بعض نہایت گندے اور بھونڈے لطیفے بھی اپنی مجلسوں میں بیان کرتے رہے اور بعض لوگوں نے اُس سے سمجھ لیا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا حالانکہ بہت فرق پڑتا ہے۔اپنے گھر میں اچھے مزاح کو جاری کریں، قائم کریں لیکن برے مزاح کے خلاف بچوں کے دل میں بچپن سے ہی نفرت اور کراہت پیدا کریں۔