سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 95

95 میں ہمارے پاس کیسٹس موجود ہیں۔ویڈیوز بھی ہیں ، آڈیوز بھی ہیں لیکن اکثر مجھے یہ دیکھ کر تجب ہوا کہ مبلغین نے یا جو ملکی عہد یداران تھے اُنہوں نے جماعت میں ان باتوں کی تشہیر نہیں کی ہوئی۔بار بار یاد نہیں کرایا کہ ہمارے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض دفعہ ایک احمدی کا کسی ٹرک (Turk) سے واسطہ پڑتا ہے یا کسی ویت نامی سے یا کسی اور سپینش سے مثلاً واسطہ پڑتا ہے تو مجھے خط لکھتا ہے کہ میں کیا کروں؟ میرے پاس کیسٹس نہیں ہیں، میرے پاس لٹریچر نہیں ہے۔اب میرے ساتھ اور کئی آدمیوں کا وقت اس بات میں استعمال ہوتا ہے، میں ضائع تو نہیں کہ سکتا یہ تو اچھی جگہ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے بغیر بھی اس کا کام چل سکتا تھا اور ہمارا وقت بچ سکتا تھا۔اگر مربی نے پہلے سے بتایا ہوا ہوتا کہ یہ کیسٹس تو مرکز ہمیں مدت ہوئی بھیج چکا ہے اور اگر مرکز نے نہیں بھیجی تھی تو مربی کا کام تھا مجھے لکھتا اور بتا تا کہ اس مضمون پر مجھ سے مطالبہ کیا گیا میں نے جائزہ لیا ہمارے پاس کوئی ایسی کیسٹ نہیں حالانکہ مرکز میں یہ انتظام ہے اور سارے ملکوں کو ہدایت ہے کہ اپنی زبان میں جو کیسٹس وہ تیار کرتے ہیں وہ دوسرے ملکوں کو بھجوائیں تا کہ دنیا کے ہر ملک میں ہر زبان کی لائبریری قائم ہو جائے لیکن وہ ہو سکتا ہے اس لئے شکایت نہ کرتے ہوں کہ خود جو کیسٹس بناتے ہیں وہ آگے نہیں بھجواتے۔اگر یہ احساس ہو کہ جو ہم نے کام تیار کیا ہے اس سے ساری دنیا استفادہ کرے تو پھر دنیا سے استفادہ کرنے کا حق بھی پیدا ہو جاتا ہے۔پھر اگر کوئی نہ ان کو فائدہ پہنچارہا ہو تو خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم تو بھجوا رہے ہیں باہر سے کوئی کیسٹ ہمیں نہیں ملتی۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اس طرف سے۔خواہ مخواہ کیوں اتنا بوجھ اُٹھایا جائے کہ پھر اور مصیبت بنی رہے ہر طرف سے پھر مطالبے ہوں گے ، پھر کیسٹ کو Duplicate کروانا ہوگا پھر آگے تقسیم کرانا ہوگا۔تو کسی ملک میں کوئی کمزوری نظر آرہی ہے، کسی میں کوئی کمزوری نظر آرہی ہے اور جماعت کو پوری طرح آگاہ نہیں رکھا جا رہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا کیا ہتھیار مہیا فرما دیئے ہیں۔جہاں استفادہ ہوتا ہے اور جرمنی میں بہت حد تک ہوتا ہے وہاں بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے زیادہ سے زیادہ دس فیصد داعی الی اللہ بنے ہوں گے اس سے زیادہ نہیں۔مگر جو کرتے ہیں وہ ایسے ایسے لوگ ہیں جن کو جرمن زبان یا ٹرکش زبان تو کیا اردو بھی نہیں ٹھیک آتی۔ایک خط میں اُردو کے ساتھ دس پندرہ پنجابی کے لفظ ملا کے لکھتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اللہ ان کو پھل عطا فرما رہا ہے۔ان کی تبلیغ کو پھل لگ رہے ہیں بعض ایسے آدمی جن کو کسی چیز کا بھی زیادہ علم نہیں۔عربوں کو تبلیغ کر کے ان کو کامیابی کے ساتھ تبلیغ کر کے ان کو احمدی بنا چکے ہیں۔بعض ٹرکس (Turks) کو احمدی بنا چکے ہیں۔