سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 554 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 554

84 دورے پہ میرے منہ سے یہ فقرہ نکلوایا کہ:۔Love For All Hatred For None ہر ایک سے پیار کرو، کسی سے نفرت نہ کرو، اتنا اثر کیا اس فقرے نے کہ ابھی مہینہ ڈیڑھ مہینہ ہوا ہالینڈ میں ہمارا سالانہ جلسہ ہوا ہیگ میں ہماری مسجد اور مشن ہاؤس ہے وہاں کے میر کو انہوں نے بلایا۔وہ آئے۔میر کی ان ملکوں میں بڑی پوزیشن ہوتی ہے اور انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں تم احمدیوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تمہارے امام نے جو تمہیں یہ سلوگن دیا تھا کہ Love For All Hatred For None کہ ہر ایک سے پیار کر ونفرت کسی سے نہ کرو، میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تم ہالینڈ کے گھر گھر میں یہ فقرہ پہنچا دو کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ایک فقرہ انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔ایک گھنٹے کی تقریر سوکھے گھاس کی طرح ہاتھ سے چھوڑ وزمین پر گر جائے گی۔جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو انسان کامیاب نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ سے ہدایت مانگتے ہوئے منتظمین ان اجتماعات کا انتظام کریں اور خدا تعالیٰ کا فضل اور رحمت مانگتے ہوئے شامل ہونے والے ان میں شامل ہوں تا کہ ہم اپنی زندگیوں کے مقصد کو پانے والے ہوں۔آمین۔اس بات کی ذمہ داری کہ ہر جماعت سے چھوٹی ہو یا بڑی، نمائندہ ان اجتماعات میں آئے سوائے اس کے کہ بعض اکا دکا استثنائی طور پر ایسی جماعتیں ہیں جس میں سارے ہی خدام ہیں بڑی عمر کا وہاں کوئی نہیں۔نئی جماعت بن گئی نوجوانوں کی۔وہاں سے کوئی انصار اللہ کے اجتماع میں ممبر کی حیثیت سے نہیں آئے گا بعض ایسے ہو سکتے ہیں کہ جو دو چار وہاں بڑی عمر کے ہیں اور ابھی خدام الاحمدیہ کی عمر کا کوئی نہیں۔اطفال اور ناصرات کی عمر کے تو یقینا ہوں گے وہ کوشش کریں کہ جن کی نمائندگی ہو سکتی ہے ، وہ ہو جائے۔ہر جماعت کی نمائندگی اپنے اپنے اجتماع میں ہونی چاہیے۔اس کی ذمہ واری ایک تو خودان تنظیموں پر ہے لیکن اس کے علاوہ تمام اضلاع کے امراء کی میں ذمہ داری لگاتا ہوتا ہوں اور تمام اضلاع میں کام کرنے والے مربیوں اور معلموں کی یہ ذمہ داری لگاتا ہوں کہ وہ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ جا کے ایک دفعہ نہیں ، جاتے رہ کر ان کو تیار کریں کہ کوئی گاؤں یا قصبہ جو ہے یا شہر جو ہے وہ محروم نہ رہے نہ پنجاب میں ، نہ سرحد میں ، نہ بلوچستان میں ، نہ سندھ میں اور اس کے متعلق مجھے پہلی رپورٹ امرائے اضلاع اور مربیان کی طرف سے عید سے دو دن پہلے اگر مل جائے تو عید کی خوشیوں میں شامل یہ خوشی بھی میرے لئے اور آپ کے لئے ہو جائے گی اور دوسری رپورٹ پندرہ تاریخ کو یعنی جو اجتماع ہے خدام الاحمدیہ کا غالبا ۲۳ /اکتوبر کو ہے تو اس سے پہلے جمعہ کو سات دن پہلے وہ رپورٹ ملے کہ ہم تیار ہیں۔ہر جگہ سے، ہر ضلع سے، ہر گاؤں، ہر قریہ، ہر قصبہ ہر شہر اس ضلع کا جو ہے اس کے نمائندے آئیں گے۔یہ انتظام جو ہے جس کے متعلق میں بات کر رہا ہوں اس کے بھی آگے دو حصے ہو گئے۔ایک کے