سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 553 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 553

83 ہم نے پھیلانا ہے وہ نور ہم حاصل کرنے والے ہوں، اپنی زندگیوں میں اسے قائم کرنے والے ہوں، اپنے اعمالِ صالحہ میں اس کو ظاہر کرنے والے ہوں ، ظلمات دنیا کونور میں بدلنے والے ہوں۔جو اجتماع ہورہے ہیں اس میں دو طرح کے نظام ہیں جن کی پوری تیاری ہونی چاہیے۔ایک تو جو شامل ہونے والے ہیں۔خدام، اطفال، ناصرات لجنہ اماءاللہ، اور انصار اللہ۔فرداً فرداً ان کو تیار ہونا چاہیے۔دہنی طور پر چوکس اور بیدار مغز لے کر یہاں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کے نور اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار اور خدا تعالیٰ کے عشق سے اپنی جھولیاں بھر کر واپس جائیں۔اس کے لئے ابھی سے تیاری کریں۔استغفار کریں۔لاحول پڑھیں۔شیطان کو اپنے سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔خدا سے دعائیں مانگیں کہ ہماری زندگی کا جو مقصد ہے حاصل ہو۔ایک ہی بے مقصد ہماری زندگی کا اس کے علاوہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں اور مقصد یہ ہے کہ اس دنیا میں آج سارے انسانوں پر اسلام اپنے دلائل ، اپنے نور، اپنے فضل، اپنی رحمت، اپنے احسان کے نتیجہ میں غالب آئے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے نوع انسانی جمع ہو جائے۔دوسری تیاری کرنی ہے منتظمین نے۔وہ بھی بغیر تیاری کے کچھ دے نہیں سکتے۔ایک تو وہ ہیں جو لینے والے ہیں اور معطعی ءِ حقیقی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے میں نے کہا اس کا دروازہ کھٹکھٹاؤ تا کہ تمہاری جھولیاں بھر جائیں۔ایک ہیں دینے والے اور جو دینے والے ہیں ان کو قرآن کریم نے دو تین لفظوں میں بیان کیا کہ هُمُ الْمُؤمِنُونَ حَقًّا (الانفال:4) مومن مومن میں فرق ہے۔ایک وہ گروہ ہے جو محض عام مومن نہیں بلکہ هُمُ الْمُؤمِنُونَ حَقًّا جن کے متعلق میں نے پچھلے خطبے میں بتایا تھا خدا نے یہ کہا کہ اے محمد حَسْبُكَ اللهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (الانفال: 65) کہ تیرے لئے وہ مومن کافی ہیں جو تیری کامل اتباع کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی وحی پر پورا عمل کرنے والے اور توحید خالص پر قائم اور ان راہوں کی تلاش میں لگے رہنے والے جن راہوں پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم ہیں اور ان نقوشِ قدم کو دیکھ کر ان راہوں کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہیں۔کامل متبعین ! خدا تعالیٰ کے حکم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔اِن أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَيَّ (الاحقاف:10 )۔خدا تعالیٰ کی وحی کو ہی سب کچھ سمجھنے والے اور اس سے باہر کسی چیز کی احتیاج نہ رکھنے والے۔ایسا بنا چاہے منتظمین کو بھی۔دعاؤں کے ساتھ آپ اپنا پروگرام بناتے ہیں۔اس میں برکتیں بھی پڑ سکتی ہیں اور برکتیں نہیں بھی پڑ سکتیں۔دعائیں کریں گے تو بابرکت ہو جائیں گے۔دعائیں کریں گے آپ کے منہ سے نکلا ہوا ایک فقرہ دنیا میں انقلاب عظیم بپا کر دے گا۔مثال دیتا ہوں۔میں تو بڑا عاجز بندہ ہوں۔اللہ تعالی بڑا فضل کرنے والا ہے۔پچھلے سال ہی