سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 537
67 اپنے کام میں دقتیں پیدا ہونی شروع ہو گئیں جس کو ایک حد تک دفتر سوم نے سنبھالا لیکن بعض ایسے ذرائع آمد تھے جو یک دم بند ہو گئے اور ان کی وجہ سے بہت وقت کا سامنا ہوا۔پھر میں نے جماعت کو ایک ٹارگٹ دیا پندرہ لاکھ روپے کا۔آٹھ اور دس لاکھ کے درمیان کہیں کھڑی ہوگئی تھی تحریک مالی قربانیوں کے میدان میں۔اور ٹارگٹ کے لئے جماعت کوشش کرتی رہی لیکن ٹارگٹ تک پہنچی نہیں۔یہ کئی سال کی بات ہے۔اس واسطے میں نے ٹارگٹ بڑھایا نہیں۔ہر سال میں کہتا رہا میرا پندرہ لاکھ کا ٹارگٹ ہے یہاں تک پہنچو۔پچھلے سال کی وصولی تیرہ لاکھ نانوے ہزار ہے۔سال رواں میں 22 اکتوبر تک آٹھ لاکھ کی وصولی ہو جانی چاہئے تھی اس میں سے سات لاکھ اسی ہزار وصول ہو چکا ہے۔اس لئے امید ہے کہ سال رواں میں کم و بیش پندرہ لاکھ کا ٹارگٹ پورا ہو جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔یہ پاکستان کی جماعتوں کی مالی قربانی ہے۔تحریک جدید کو جہاں یہ دقت پیش آئی کہ ساری دنیا کے اقتصادی حالات کے نتیجہ میں پاکستان سے باہر دین اسلام کی خدمت کے لئے جماعت کوئی رقم قا نو نا بھو نہیں سکتی تھی اور نہیں بھجوائی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں یہ سامان پیدا کر دیا کہ باہر اس قدر ترقی جماعت کو خدا کے فضل اور اس کی رحمت سے ہو گئی کہ باہر کی جماعتوں نے ، بیرون پاکستان کی جماعتوں نے۔بیرون پاکستان کے بہت بڑے بوجھ خود اٹھا لئے اور خود کفیل ہو گئے۔یہاں جو اخراجات ہیں وہ اب کم ہو گئے ہیں لیکن جو ہیں وہ بہت ضروری ہیں مثلاً مبلغین کا تیار کرنا۔جامعہ احمدیہ کا خرچ ہے۔مبلغین کا تیار کرنا جماعت کی ذمہ داری اس معنی میں بھی ہے کہ تیاری کا خرچ جماعت مہیا کرے اور جماعت کی ذمہ داری اس معنی میں بھی ہے کہ خرچ کروانے کے لئے اپنے بچے وقف کرے اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق مخلص نوجوان آگے آئیں۔اس سلسلہ میں جو چیز نمایاں ہو کر میرے سامنے آئی وہ یہ ہے کہ جو ہماری نوجوان واقفین کی نسل ہے ان میں بڑی بھاری اکثریت محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت مخلص اور قربانی دینے والی اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگی کو صحیح معنی میں وقف کرنے والی ہے اور صرف نو جوان واقفین ہی نہیں جماعت احمدیہ کی نوجوان نسل احمدیوں کے گھروں میں پیدا ہوئی ہے یا احمدی ہوئی ہے اور اسی طرح وہ احمدی نوجوان نسل بن گئی۔خدام احمد یہ بن گئے ان کے اندر بڑا جذ بہ پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے بڑا پیار پایا جاتا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بڑی محبت پائی جاتی ہے۔یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کو انسانی دل میں پیدا کرنا ہے تو انہیں بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی جس کے لئے وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ تیار