سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 538 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 538

68 ہیں ذہنی طور پر بھی اور قلبی طور پر بھی اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ علمی طور پر بھی اس کے لئے تیار ہوں۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے لیکن دوسری طرف جو کمزور تھا وہ زیادہ کمزور ہو گیا۔مقابلے میں آگیا نا بہت زیادہ مخلصین کے۔تو ہزار میں سے ایک شاید بیس ہزار میں سے ایک شاید ایک لاکھ میں سے ایک ہو لیکن ان کی جو شرارتیں اور ان کی نالائقیاں تھیں اللہ تعالیٰ سے ان کی جو بے وفائیاں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی جو بے پر واہی تھی وہ نمایاں طور پر ہمارے سامنے آنے لگ گئی۔اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے بھی سامان پیدا کرے اور مخلصین کی اس نسل کو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی حفاظت میں رکھے اور شیطان کے ہر حملہ سے انہیں محفوظ رکھے۔تو آج میں پندرہ لاکھ کے ٹارگٹ کے ساتھ ہی تحریک جدید کے سال نو کا اعلان کرتا ہوں تین شکلوں میں دفتر اول کے چھیالیسویں سال کا۔دفتر دوم کے چھتیسویں سال کا اور دفتر سوم کے پندرھویں سال کا، جو نئے کمانے والے ہیں، جو نئے بلوغت کو پہنچنے والے ہیں۔جو پہلی دفعہ اپنے دلوں میں یہ احساس محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، خواہ روپیہ دوروپے ہی کیوں نہ ہو، خدا تعالیٰ کے دین کی راہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور مالی قربانیاں بھی پیش کرنی چاہئیں۔وہ اس کو مضبوط کریں۔مالی جو پہلو ہے اس کو بھی اور جو اس سے اہم دوسرے پہلو ہیں انہیں بھی مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور اللہ پر توکل اور اس سے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گی اور ان کو ادا کرنے کی اپنے رب کریم سے توفیق پائیں گی۔انصار اللہ کا اجتماع آج شروع ہے۔جو انصار سے تعلق رکھنے والی تفاصیل ہیں ان کے متعلق تو انشاء اللہ ان کے اجتماع میں بیٹھ کے ان سے گفتگو ہوگی لیکن بعض بنیادی حقیقتیں ہیں انسانی زندگی کی اور چونکہ انصار اللہ کی زندگی بھی انسانی زندگی ہی ہے ایک پہلو اس کا۔اس لئے بعض بنیادی باتیں اس وقت میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (المائده : 70) خدا تعالیٰ کو حاصل کرنے ، اس کی معرفت پانے ، اس کی رضا حاصل کرنے ، اس کا پیارا بننے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں منطقی ترتیب کے ساتھ تین باتوں کا ذکر کیا ہے ایک ایمان باللہ ہے، خدا تعالیٰ پر ایمان لانا یعنی خدا تعالیٰ کو وہ ماننا جو وہ ہے۔وہ سمجھنا، وہ شناخت کرنا جو حقیقت ہے اس کی ہستی اور وجود کی جس کو ہم عام طور پر عرفان باری، اللہ تعالیٰ کی معرفت کا نام دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں ایک بے مثل ہستی ہے اور اس کی صفات میں بھی اس کا کوئی مثیل نہیں۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کا انسان سے تعلق ہے خدا تعالیٰ کی ساری صفات کی حقیقت یہ ہے کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً