سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 412
412 سبیل الرشاد جلد دوم زیادہ احمدی نہیں تھے اور اس بار با وجود رات ہو جانے کے ہزار ہا احمدی نمائندے ( ہر جگہ کے نمائندے حاضر بھی نہیں تھے کیونکہ بہت بڑا ملک ہے وہ ) وہاں پر موجود تھے اور بڑا جوش اور جذبہ تھا اُن میں۔اور دیکھنے والی آنکھ نے اور رپورٹ کرنے والی قلم نے یہ بیان کیا یعنی وہ آنکھ اور وہ قلم جس کا احمدیت سے تعلق نہیں ادھر اُدھر رپورٹیں جاتی رہتی ہیں نا کہ اس وقت وہ زبر دست استقبال ہوا کہ آج تک نائیجیریا میں کسی سر براہ مملکت کا بھی ویسا استقبال نہیں ہوا۔( نعرے ) یہ جو کچھ بھی ہوا وہ مرزا ناصر احمد کے لئے نہیں ہوا بلکہ اللہ اور اُس کے رسول کے ایک ادنیٰ خادم کے لئے ہوا۔وہاں ایک اور واقعہ بھی ہوا۔ہم ابادان گئے۔ابادان مسلمانوں کا شہر ہے، بہت بڑا ۲۰،۱۵ لاکھ کی آبادی ہے۔غالباً ، بہت پرانا مسلم آبادی کا شہر ہے ، وہاں بڑی جماعت ہے ، ایک نئی بہت بڑی مسجد انہوں نے بنائی ہے۔وہاں ہم صبح گئے ، شام کو واپس آئے ، بہت دوست وہاں جمع تھے اور ایسے بھی تھے جو ابھی احمدیت میں داخل نہیں ہوئے کل کو ہو جائیں گے انشاء اللہ )۔راستے میں بارش ہوئی اور بارش میں اندھیرے میں ہم سفر کرتے ہوئے جس وقت لیگوس جو ان کا دارالخلافہ ہے جہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے وہاں پہنچے تو شہر کی سرحدوں کے قریب ایک خطر ناک قسم کا حادثہ ہوا ہماری کار کے ساتھ۔کار تو بالکل ٹوٹ پھوٹ گئی اور ہمارا یہ حال تھا کہ کچھ دیر کے بعد جب دروازہ کھول کے مجھ سے کسی نے پوچھا کہ چوٹ تو نہیں آئی تو میں نے کہا پہلے کھڑ کی کھولو کہ میں باہر نکل کے یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میری کوئی بڑی تو نہیں ٹوٹی۔خیر اللہ نے بڑا فضل کیا۔جب ہوٹل پہنچے تو ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب کو میں نے کہا باقی ہڈیاں تو ٹھیک ہیں۔ریڑھ کی ہڈی کو پہلے بھی گھوڑے سے گر کے تکلیف ہوئی تھی اور لمبی چلی تھی اس کو دیکھیں ریڑھ کی ہڈی میں تو نہیں تکلیف۔تو انہوں نے جائزہ لیا اور تسلی دلائی کہ وہ ٹھیک ہے۔اُس وقت میں نے اپنے رب سے یہ عہد کیا کہ اُس نے اس خادم کی جان بچائی ہے محض اپنے فضل اور رحم کے ساتھ نہ کہ میری کسی خوبی کے نتیجہ میں ، اس لئے میں اپنے پروگرام میں اس حادثہ کی وجہ سے ایک سیکنڈ کی بھی تبدیلی نہیں کروں گا۔اگر چہ کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی تھی۔لیکن سر سے لے کر کمر کے نچلے حصے تک مسلز (Muscles) میں اتنی شدید درد کی تکلیف تھی کہ آپ اُس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ڈاکٹروں نے جو دوائی بتائی اُس نے درد کو کم کیا اور ہم نے اپنے پروگرام کو جاری رکھا۔جن کو نہیں پتہ تھا حادثہ کا اُن کو اندازہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ کس حادثے سے ہم گزر کے آئے ہیں۔تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نائیجیر یا وہ ملک ہے جہاں آج سے دس سال پہلے غلط فہمیوں اور عدم علم کے نتیجہ میں بہت سی بدظنیاں اور بدمزگیاں پیدا ہوگئی تھیں جماعت احمدیہ کے