سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 411 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 411

سبیل الرشاد جلد دوم 411 سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا اختتامی خطاب (فرموده ۲ رنبوت ۱۳۵۹ بهش ۲ نومبر ۱۹۸۰ء بمقام احاطه دفاتر مجلس انصار اللہ مرکز ی ربوہ) مل انصار اللہ مرکز یہ کے تیسویں سالانہ اجماع کے موقع پر۲ نومبر ۱۹۸ء کوحضرت خلیفۃ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اختتامی خطاب فرمایا اس کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔تشہد وتعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: بعض بہت ہی اہم باتیں میں خدام ، انصار اور لجنہ یعنی جماعت سے کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے ایسی باتوں کا ذکر میں نے خدام الاحمدیہ کے اجتماع تک ملتوی کیا ہے اور میں نے آپ سے کہا تھا کہ ہر ضلع کے انصار کے نمائندے خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں شامل ہونے چاہئیں ، لیکن لجنہ میں میں علیحدہ تقریر میں وہ باتیں مختصراً بیان کر دوں گا۔لجنہ کا اجتماع خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے ساتھ ہوتا ہے۔اُن سے علیحدہ باتیں ہو جائیں گی۔بہت سی تو ایسی باتیں ہیں جن کا میری ذات سے تعلق بظاہر نظر آتا ہے وہ تو مجھے حجاب ہو گا شاید میں نہ بیان کروں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میری ذات سے کسی چیز کا بھی تعلق نہیں اس لئے کہ میں ایک نہایت ہی عاجز انسان ہوں اور جو کچھ بھی اس وقت دنیا میں ہو رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی سچی تو حید کے قیام کے لئے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو دلوں میں گاڑنے کے لئے ہو رہا ہے۔پہلے میں افریقہ کے ان دو ملکوں کو لیتا ہوں جن میں میں گیا اس سفر میں۔بہت پھرا ، ہیں تمہیں ہزار میل کا غالبا سفر کیا ہے میں نے ان دنوں میں۔پھر بھی ہر جگہ نہیں جاسکا۔مغربی افریقہ کے بہت سے ملکوں میں دل کرتا تھا کہ جاؤں جہاں نصرت جہاں ، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری کی گئی تھی ، کام کر رہی ہے۔صرف نائیجیریا اور غانا میں جاسکا۔نائیجیریا میں جو انقلاب عظیم ذہنی طور پر بپا ہو رہا ہے اُس کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ایک مثال میں لیتا ہوں ظاہر کی۔جس وقت ہم وہاں پہنچے یعنی ہوائی جہاز سے اتر کے آئے تو اس قدر وہاں اللہ کے فضل سے اور اللہ ہی کے نام کو بلند کرنے کے لئے ہجوم جمع تھا کہ میرے اندازے سے بھی کہیں زیادہ تھا۔کیونکہ دس سال پہلے میں اسی ہوائی اڈے پر اُترا تھا اور اس وقت وہاں چند سو سے