سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 404
404 سبیل الرشاد جلد دوم نے اثر کیا ہے۔لیکن بعض حصے ایسے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ کل لا غَالِبَ إِلَّا الله“ یہاں کندہ کیا گیا ہے اس پتھر پر۔اس محل میں ایک گنبد ایسا ہے جس میں غار ثور میں مکڑی نے جالا بنا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کی حفاظت کے لئے۔خدا تعالیٰ نے عظیم نشان دکھایا تھا کہ دشمن سر پر آ گیا ہے۔تو مکڑی کے ذریعے سے وہ جال بن دیا۔کبوتر آیا ، اس نے گھونسلا بنا دیا۔اس حقیقت کو ایک گنبد میں ظاہر کیا ہے نہایت ہی خوبصورت طریق پر۔مکڑی کا جالا نہیں لیکن پتھر کو کچھ اس طرح تراشا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مکڑی نے جالائین دیا اور اس کے ساتھ کبوتر کے گھونسلے بنا دیے۔یہ پیارا اسلام کے ساتھ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کے ساتھ۔یہ شان وہاں نظر آئی۔دل بے چین ہو گیا۔۷۰ ء کی بات میں کر رہا ہوں۔خدا تعالیٰ دعا کی تو فیق دیتا ہے۔اتنی سخت بے چینی اور کرب پیدا ہوا کہ میں ساری رات خدا کے حضور دعا کرتا رہا کہ خدایا ! یا وہ شان تھی اور یا اس ملک میں ایک مسلمان بھی باقی نہیں رہا، اپنی غفلتوں ، کوتاہیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں۔اور میں نے کہا۔اے خدا ! رحم کر اس قوم پر۔اسلام کی روشنی اور اسلام کا حسن پھر انہیں دکھا اور اسلام کے جھنڈے تلے انہیں جمع کرنے کے سامان پیدا کر۔صبح کی اذان کے وقت مجھے خدا تعالیٰ نے بڑے پیار سے یہ کہا۔وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ جو لوگ خدا پر توکل کرتے ہیں ان کے لئے اللہ کافی ہے وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِم۔خدا تعالی بڑی طاقت والا ہے اور جو چاہتا ہے وہ کر دیتا ہے۔کوئی اس کو روک تو نہیں سکتا نا۔قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا لیکن ہر چیز کے لئے اس نے ایک وقت مقرر کیا ہے۔ہوگا تو سہی یہ یعنی تیری دعا تو قبول کی جاتی ہے لیکن ہو گا اپنے وقت پر۔مجھے تسلی ہوگئی۔۷۰ء میں تعصب کا یہ حال تھا کہ طلیطلہ جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے وہاں ایک چھوٹی سی مسجد ہے۔یہ جو ہمارا انصار اللہ کا ہال ہے اس سے بھی چھوٹی ٹوٹی پھوٹی ایک مسجد ، گرد و غبار سے اٹی ہوئی، دروازے کھلے، کوئی دیکھ بھال بھی اس کی نہیں ہو رہی تھی۔اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا ٹوٹا پھوٹا مکان تھا۔میں نے کرم الہی صاحب ظفر کو کہا کہ ایک درخواست دیتے ہیں حکومت کو کہ بیس سال کے لئے ہمیں یہاں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں۔وہ مجھے کہنے لگے کہ آپ مانگتے کیوں نہیں کہ ہمیں دے دیں یہ مسجد۔میں نے کہا نہیں۔میں نے کہا اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے گا اپنی مسجد بنانے کی۔اس واسطے مانگنا نہیں۔وہ کہنے لگا۔پھر سو سال کے لئے نماز پڑھنے کی اجازت مانگیں۔میں نے کہا کیا با تیں کرتے ہو۔سوسال ہیں سال کے اندر اندر اللہ تعالیٰ انقلاب بپا کرے گا۔چنانچہ ہم نے جب درخواست دی، جنرل فرینکو اس وقت