سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 381 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 381

381 سبیل الرشاد جلد دوم علیہ وسلم کی اتباع کے طفیل خدا تعالیٰ سے جو دلائل عیسائیت کے خلاف اور حقانیت اسلام کے حق میں ملے اس کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم نے جو کانفرنس کی اس کا بہت اثر ہوا۔ہم ایک چھوٹی سی جماعت ہیں ، غریب سی جماعت کوئی اقتدار نہ رکھنے والی جماعت لیکن قربانیاں کرنے والی جماعت ، جس کے دوسو کے قریب فدائی اپنے خرچ پر پاکستان سے اس کا نفرنس میں چلے گئے۔غریب غریب لوگ ہمیں شکلیں دیکھتا تھا تو حیران ہوتا تھا کہ انہوں نے پیسے کہاں سے اکٹھے کئے یہاں آنے کے لئے۔اُن کو تو کسی نے ایک دھیلہ باہر سے نہیں مدد نہیں دی۔اپنے خرچ پر گئے۔اُن کے دلوں میں جوش تھا کہ عیسائیت کے مرکز سے خدائے واحد و یگانہ کی بزرگی اور کبریائی کی آواز بلند ہو گی ہم بھی جا کر اس میں شامل ہوں۔جس وقت اس کا نفرنس کا چرچا ہوا تو دونمایاں اثر ہوئے۔ویسے تو بہت سے اثرات ہیں لیکن یہ مضمون زیادہ لمبا بیان نہیں کیا جا سکتا۔ابھی اسے بیان کرتے ہوئے ہم انشاء اللہ آگے بھی چلیں گے۔بہر حال دو باتیں بہت نمایاں ہیں۔ایک یہ کہ وہ کپڑا جو غالباً چودہ فٹ تین انچ لمبا اور چارفٹ سات انچ چوڑا ہے جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب سے اترنے کے بعد مرہم لگا کر رکھا گیا تھا اور اس پر مرہم کے نشان اور حضرت مسیح کی شبیہ بھی ہے ( لوگ کہتے ہیں۔صحیح یا غلط یہ وہ جانیں ) اس کو کفن مسیح بھی کہتے ہیں اور شراؤڈ آف ٹیورن بھی کہتے ہیں۔کیونکہ وہ ٹیورن کے گرجا میں ہے اس کے متعلق انہوں نے یہ اعلان کیا کہ مئی کے مہینے میں اس کا سائنسی طریقوں سے ٹیسٹ ہوگا۔اب سائنس نے بڑی ترقی کر لی ہے۔ایک کار بن ۱۴ کا ٹیسٹ ہے جو کپڑے کی عمر بتا سکتا ہے۔اگر وہ ٹیسٹ لیں تو وہ بتا دے گا کہ یہ دو ہزار سال پہلے کا ہے یا صرف ۵۰۰ سال پہلے کا ہے۔ویسے ۵۰۰ کا نہیں ہے اس سے زیادہ عرصہ سے تو ان کے پاس ہے۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ غالباً ایک ہزار یا بارہ صد سال سے اُن کے پاس ہے اور اس سے پہلے بھی یہ محفوظ چلا آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مئی میں وہ ٹیسٹ بھی ہوگا اور دوسرے اور بہت سے ٹیسٹ ہوں گے۔پھر جب ہماری طرف سے یہ اعلان ہوا کہ ۲۔۳۔۴ جون کو جماعت احمدیہ کی طرف سے کا نفرنس ہو گی تو چرچ نے اعلان کیا کہ ٹیورن شراؤڈ کے متعلق ، کفن مسیح کے متعلق جو سائنسی تحقیق ہونی تھی وہ غیر معین عرصہ کے لئے ملتوی کر دی گئی ہے۔اس بات کو میں اختتام تک پہنچا دوں اس کے بعد میں کا نفرنس کے اثرات بھی بتاؤں گا۔میرے واپس آنے سے چند دن پہلے ایک احمدی نے امریکہ کے کسی اخبار کا تراشہ مجھے بھیجا۔اس میں یہ لکھا تھا کہ چرچ نے یہ اعلان کیا ہے کہ اب اکتو بر میں کسی وقت وہ سائنسی تحقیق ہوگی۔انہوں نے بہت ترقی یافتہ آلات بنائے ہیں جو تصویر میں لیں گے۔امریکہ کا ہوائی جہازوں کا محکمہ وہ آلات استعمال کرتا ہے اور وہ بڑے Sophisticated ہیں اور بڑے عجیب اور ان