سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 380 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 380

سبیل الرشاد جلد دوم 380 سکتے تھے کہ اس کے وہ نتائج نکلیں گے جو نکلے۔ایک بات جس کی کوئی اتنی اہمیت نہیں ہے لیکن بہر حال اسے پڑھ کر لطف آیا یہ ہے کہ ایک عیسائی اخبار نے لکھا کہ کانفرنس ہوگئی اور انگلستان پر جو کہ عیسائی ملک تھا اسلام کی زبر دست یلغار ہو گئی اور چرچ یعنی کلیسیا خاموش بیٹھا ہے۔پتہ نہیں ان کو کیا ہو گیا ہے۔کیا سوچ رہے ہو تم ؟ خاموش کیوں بیٹھے ہو تمہارے اوپر تو زبر دست حملہ ہو گیا ہے۔یہ احساس اس کا نفرنس نے پیدا کیا ہے۔وہ لوگ خاموش بیٹھے تھے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے دعوئی سے پندرہ ہیں سال قبل یہ اعلان کر چکے تھے ( اور وہ اعلان ہماری لائبریری میں محفوظ ہیں ) انہوں نے اعلان کیا کہ سارا ویسٹ افریقہ خداوند یسوع کی جھولی میں ہے اور اب یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور جماعت احمدیہ کی کوششوں میں خدا نے جو برکت ڈالی اس کی وجہ سے مغربی افریقہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ عیسائی مسلمان ہو چکے ہیں اور انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا مکہ اور مدینہ پر لہرائے گا۔اور اب یہ حالت ہے کیتھولک فرقہ جو کہ عیسائیت میں اپنی تعداد کے لحاظ سے، اثر ورسوخ کے لحاظ سے، مال کے لحاظ سے ، رُعب کے لحاظ سے اور تنظیم کے لحاظ سے سب سے بڑا فرقہ ہے اس نے اپنے پادریوں کو بھی یہ ہدایت کی ہے کہ کسی احمدی سے بات نہیں کرنی اور نہ ان سے کوئی کتاب لے کر پڑھنی ہے۔وہ جھنڈا تو کبھی وہاں نہیں لہرائے گا اور اس کے بعد جو بات میں کہنے والا ہوں وہ صرف ایک خواہش کا اظہار ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اگر اس کے لئے جان دینے کی ضرورت پڑی تو اس جھنڈے کے لہرانے سے پہلے آخری احمدی کا خون بہہ چکا ہو گا۔( تمام حاضرین نے بیک آواز انشاء اللہ تعالیٰ کہا اور پھر نعرہ ہائے تکبیر اور اسلام زندہ باد کے نعروں سے فضا گونج اٹھی ) لوگ مختلف باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن وہ باتیں ہمارے دل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار تو نہیں چھین سکتیں اور نہ ملکہ کی عظمت کو ہمارے دل سے مٹاسکتی ہیں۔پاکستان تو بعد میں بنا ہے پہلے ہندوستان تھا جس میں ہمارے یہ علاقے بھی شامل تھے۔۱۸۶۰ء اور ۱۸۸۰ء کے درمیان انہوں نے اس قسم کے اعلان کئے کہ ہندوستان کے سارے مسلمان عیسائی ہو چکے ہوں گے۔یہاں ایک علامہ تھے جو بعد میں پادری بن گئے عمادالدین ان کا نام تھا۔انہوں نے ایک مضمون لکھا جو ایک عیسائی کا نفرنس میں پڑھا گیا۔میرا خیال ہے کہ اس کی بھی ایک کاپی یہاں ہمارے پاس موجود ہے۔اس میں انہوں نے کہا کہ وہ وقت آنے والا ہے کہ اس کے بعد اگر کسی ہندوستانی عیسائی کے دل میں کبھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ مرنے سے پہلے کسی مسلمان کا منہ تو دیکھ لے تو اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو محمد صلی اللہ