سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 351

351 سبیل الرشاد جلد دوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں دو انقلابی نظام قائم کئے ہیں۔ایک مادی دنیا میں نظام وصیت ہے۔جو چندہ وصیت آپ دیتے ہیں اس کے ذریعہ سے یہ نظام قائم ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بعض تقاریر میں اس پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔میں اس وقت اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔آپ نے فرمایا ہے کہ اگر سارے احمدی اپنی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کا ۱/۱۰ دینے لگیں تو ایک ایسا زمانہ آ جائے گا کہ مرکز کے پاس اتنی دولت ہوگی کہ جس سے کوئی آدمی ایسا نہیں رہے گا جس کے حقوق پورے نہ ہو رہے ہوں۔یہ عمل تو شروع ہے۔گوا بھی ابتداء میں ہے اس میں شک نہیں لیکن وہ ایک نظام ہے جس کی طرف ساری دنیا میں توجہ پیدا ہو رہی ہے۔مثلاً امریکہ جو مادی دنیا میں پھنسا ہوا ہے وہاں ہمارے احمدی دوستوں میں یہ رو پیدا ہوگئی ہے کہ وصیت کرنی چاہئے پھر اُن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ بہشتی مقبرے میں کیسے جائیں گے۔بہشتی مقبرہ کی شاخیں ہونی چاہئیں یا کوئی ایسا انتظام ہونا چاہئے جہاں اکٹھے ہو کر دعائیں ہو جائیں۔وہ بہشتی مقبرہ تو نہیں ہو گا لیکن بہر حال اس سے ملتی جلتی کوئی چیز ہو گی کہ جس سے وہ مقصد پورا ہو جائے کہ جو مالی قربانیاں کرنے والے ہیں اُن کے لئے دعائیں ہوتی رہیں۔پس یہ نظام وصیت ہے جو د نیوی لحاظ سے ایک انقلابی نظام ہے۔رسالہ الوصیت کی رو سے دوسرا نظام ایک روحانی نظام اور نہایت ہی عظیم نظام ہے اور وہ ہے نظام خلافت اور یہی جماعت احمدیہ کا مرکزی نقطہ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں فرمایا ہے کہ جس قسم کی زبر دست قدرت کا ہاتھ خدا تعالیٰ میری زندگی میں دکھا رہا ہے (جو لوگ آپ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں وہ پھر غور سے پڑھیں بہت کم لوگ اس طرف توجہ کرتے ہیں ) آپ نے فرمایا ہے کہ جس قسم کی زبر دست قدرت کا ہاتھ خدا تعالیٰ میرے ذریعہ سے دکھا رہا ہے اور جس زبر دست قدرت کا میں مظہر ہوں۔میں تمہیں کہتا ہوں کہ قیامت تک اس قسم کی قدرت اب تم میں نہیں آئے گی۔لیکن آپ نے فرمایا کہ مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔خدا تعالیٰ اپنی زبردست قدرت کا ایک اور ہاتھ دکھائے گا اور اسے آپ نے قدرت ثانیہ کہا ہے۔آپ نے فرمایا۔میرے بعد ایسے وجود ہوں گے جو قدرت ثانیہ کے مظہر بنیں گے اور اس زبر دست قدرت یعنی قدرت ثانیہ کا ظہور میرے مرنے کے معاً بعد شروع ہو جائے گا۔اس میں کوئی فاصلہ نہیں ہو گا کہ تمہیں سو سال تک انتظار کرنا پڑے۔دوسرے آپ نے فرمایا کہ قدرت ثانیہ کے ظہور کا سلسلہ قیامت تک ممتد ہے یہ منقطع نہیں ہوگا۔خدا تعالیٰ اپنی زبر دست قدرتوں کا ہاتھ قیامت تک دکھاتا رہے گا ، مظاہر قدرت ثانیہ کے ذریعہ سے۔اور یہ سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔پس جب یہ قدرت ثانیہ کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہونا۔تو ظاہر ہے