سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 336
سبیل الرشاد جلد دوم 336 جماعت بھی اجتہاد خشک کی محتاج نہیں ہے جیسا کہ آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بهم (سورة الجمعه: 4) سے سمجھا جاتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں : "حسب منطوق آیت ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ O و ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (سورة الواقعہ: 40-41) خالص محمدی گروہ جو ہر ایک پلید ملونی اور آمیزش سے پاک اور تو به نصوح سے غسل دیئے ہوئے ایمان اور دقائق عرفان اور علم اور عمل اور تقویٰ کے لحاظ سے ایک کثیر التعداد جماعت ہے یہ اسلام میں صرف دوگر وہ ہیں یعنی گروہ اولین و گروه آخرین جوصحابہ اور مسیح موعود کی جماعت سے مراد ہے اسی طرح آپ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِينَ O وَتُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ يعنى ابرار و اخیار کے بڑے گروہ جن کے ساتھ بدمذاہب کی آمیزش نہیں وہ دو ہی ہیں۔ایک پہلوں کی جماعت یعنی صحابہ کی جماعت جو زیر تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔دوسری پچھلوں کی جماعت جو بوجہ تربیت روحانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسا کہ آیت وَاخَرينَ مِنْهُمُ (الجمعه 4) سے سمجھا جاتا ہے صحابہ کے رنگ میں ہیں۔یہی دو جماعتیں اسلام میں حقیقی طور پر مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ ہیں اور خدائے تعالیٰ کا انعام اُن پر یہ ہے کہ اُن کو انواع و اقسام کی غلطیوں اور بدعات سے نجات دی ہے۔اور ہر ایک قسم کے شرک سے ان کو پاک کیا ہے اور خالص اور روشن تو حیدان کو عطا فرمائی ہے جس میں نہ دجال کو خدا بنایا جا تا ہے اور نہ ابن مریم کو خدائی صفات کا شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اپنے نشانوں سے اس جماعت کے ایمان کو قوی کیا ہے اور اپنے ہاتھ سے ان کو ایک پاک گروہ بنایا ہے۔مُنْعَمُ عَلَيْهِ کے یہ دو گروہ جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر کیا ہے۔ان کے متعلق میں نے رمضان کے آخری درس میں تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔کیونکہ اُس وقت آپ میں سے بہت سے دوست یہاں موجود نہیں تھے اس لئے یاد دہانی کے طور پر مختصر دوبارہ بیان کر دیتا ہوں۔مُنْعَمُ عَلَيْهِ کے تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۳۸۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۲۴ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۳۹-۱۴۰۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۵ - ۲۲۶ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۴۱ - ۱۴۲۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۲۲۷ - ۲۲۸ 66