سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 335
335 سبیل الرشاد جلد دوم ہے وَأَنْزِلُ عَلَيْهِ انوار رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ انسانیت کے اس عظیم محسن کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں قیامت تک خدا تعالیٰ کے پیارے اور خدا سے پیار حاصل کرنے والے بندے پیدا ہوتے رہیں گے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدا ہو کر تو کوئی شخص خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل نہیں کر سکتا۔اور وہ دُعا جو سورہ فاتحہ میں سکھائی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اُمت محمدیہ کو منعم علیہ گروہ میں شامل کرے گا ، وہ دُعا بڑی کثرت سے پوری ہوئی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ کثرت کمیت کے لحاظ سے اور صفائی کیفیت کے لحاظ سے حقیقی معنی میں منعم علیہ کے دو گروہ ہیں۔ایک گروہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور پھر ان کے بعد تین صدیوں تک پیدا ہونے والے ابرار واخیار پر مشتمل ہے۔اسی لئے اسلام کی پہلی تین صدیاں خیر القرون کہلاتی ہیں۔اس گروہ کے ایک حصے نے تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلا واسطہ رُوحانی تربیت حاصل کی اور پھر جو لوگ بعد میں آنے والے تھے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی اثر قبول کر کے اپنے وجود میں ایک عظیم روحانی انقلاب پیدا کیا اور دُنیا کے لئے وہ ہدایت کا باعث بنے۔دوسرا گر وہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مشتمل ہے کیونکہ انہوں نے بھی بالواسطہ طور پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی رُوحانی تربیت سے حصہ پایا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : خدا تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ وہ اس فریق کی راہ خدا تعالیٰ سے طلب کرتے رہیں جو مُنْعَمْ عَلَيْهِمُ کا فریق ہے اور سُنْعَمُ عَلَيْهِمْ کے کامل طور پر مصداق باعتبار کثرت کمیت اور صفائی کیفیت اور نعمائے حضرت احدیت از رُوئے نص صریح قرآنی اور احادیث متواترہ حضرت مرسل یزدانی دو گروہ ہیں۔ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گروہ جماعت مسیح موعود۔کیونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں کسی اپنے اجتہاد کے محتاج نہیں۔وجہ یہ کہ پہلے گروہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے جو خدا سے براہ راست ہدایت پا کر وہی ہدایت نبوت کی پاک توجہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں ڈالتے تھے اور اُن کے لئے مرتی ہے واسطہ تھے اور دوسرے گروہ میں مسیح موعود ہے جو خدا سے الہام پاتا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے فیض اٹھاتا ہے لہذا اس کی برکات الدعاء۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۰-۱۱