سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 298 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 298

سبیل الرشاد جلد دوم 298 زیادہ ہیں۔اراکین کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۱۹۵۳ تھی۔اس اجتماع میں اراکین کی تعداد ۱۲۱۶ ہے اور یہ بھی ۳/۵ ہیں ۱/۵ نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔اللہ تعالیٰ اس رُوح کو جماعت میں ہمیشہ قائم رکھے۔اس اجتماع میں شامل ہونے والوں اور پیچھے رہنے والوں ہر دو کو احسن جزاء عطا فرمائے۔کیونکہ انہوں نے نظامِ جماعت کا حکم مانا اور اپنی محبت کا اظہار کیا۔مجھے بتایا گیا ہے کہ انصار اللہ کے اس اجتماع کے پروگرام کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے اس لئے اس وقت میں جو باتیں کہوں گا وہ انصار اللہ کے اس نمائندہ اجتماع کی آخری گفتگو نہیں ہوگی۔بلکہ میرے یہاں سے واپس جانے کے بعد آپ دوست آرام سے یہاں بیٹھے رہیں گے۔اور اپنے پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور اگر گھنٹہ دو گھنٹہ کھانے میں دیر ہو جائے تو میرے لئے اور آپ کے لئے بھی کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسلام جیسا پُر حکمت مذہب ہمیں دیا ہے جس نے ایسے موقعوں پر نمازیں جمع کرنے کی اجازت دی ہے۔پس اس موقع پر بھی نماز میں ظہر و عصر جمع کر لی جائیں۔معروف عذر کے بغیر بھی نمازیں جمع کرنے کی سنت بچپن میں اتنا بچپن تو نہیں طالب علمی کے زمانہ میں بعض چیزیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں کیونکہ وہ عملی زندگی میں پڑ کر سمجھ آتی ہیں۔بچپن کے زمانہ میں جب حدیث میں پڑھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ن بِغَيْرِ مَطَرٍ وَلَا عُذْرِ نمازیں جمع کروا دیں تو سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ کیا بات ہے۔مگر اب اس کی سمجھ آئی کہ عذر ، راوی کو سمجھ نہیں آیا۔کوئی ایسی ضرورت یا حکمت ہوگی جسے ہر آدمی سمجھ نہیں سکتا۔اس واسطے یہ روایت محفوظ کر لی گئی تا کہ ایسے طور پر نمازیں جمع کرنے والوں پر لوگ اعتراض نہ کریں۔بعض معترض دماغ یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ تم بلا عذر نمازیں جمع کیوں کرتے ہو۔ہم اس لئے جمع کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معروف عذر کے بغیر بھی نماز جمع کرنے کی سنت قائم کر دی۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ گھروں میں ویسے ہی نمازیں جمع کر لیا کریں۔جب دینی کام کے لئے کوئی انتظام کرنا ہو یا امام وقت نمازیں جمع کرنا مناسب سمجھے تو اُسوۂ نبوی پر عمل کرتے ہوئے وہ نمازیں جمع کر کے پڑھائے۔ایسی صورت میں نمازیں جمع کرنے کا عذر تو ضرور ہو گا لیکن راوی کو نہیں سمجھ آ رہا ہو گا کہ کیوں جمع کی گئیں۔بہر حال عملی زندگی میں آکر بہت سارے مطالب خود بخود حل ہو جاتے ہیں۔انصار اللہ کی گونا گوں ذمہ داریاں اب میں انصار اللہ کی بات کرتا ہوں۔انصار اللہ " کا لفظ ان بزرگ احمد یوں پر بہت ساری