سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 6
6 سبیل الرشاد جلد دوم بچے قرآن کریم پڑھیں لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا مستقل انتظام ہونا چاہئے اس لئے قرآن کریم کے پڑھانے کا منصو بہ اور وقف عارضی کی سکیم پہلو بہ پہلو چلتی ہیں۔اگر کم از کم پانچ ہزار واقفین عارضی ہوں تو ہم ایک حد تک جماعتوں کو سنبھال لیں گے۔گو پھر بھی ہر جماعت میں ہمارا وفد نہیں جا سکے گا۔یعنی ایسا نہیں ہو سکے گا کہ کسی جماعت میں ہمارا وفد مستقل طور پر سارا سال رہے۔اس وقت تک ہمیں ایک دو کم ایک ہزار واقفین ملے ہیں یہ بھی ایک اچھی خاصی تعداد ہے لیکن یہ تعداد ہماری ضرورت کو پورا نہیں کرتی۔یا تو جماعت ہمیں مستقل معلم دے یا مستقل طور پر ایسا انتظام کرے کہ اتنے واقفین عارضی ہمیں مل جائیں کہ یکے بعد دیگرے واقفین عارضی کا وفد ان جماعتوں میں بیٹھا ر ہے۔واقفین عارضی اپنا کھانا خود پکائیں واقفین عارضی کے لئے ہم نے یہ ضروری شرط لگائی تھی کہ وہ اپنے کھانے کا یا کوئی اور بوجھ اس جماعت پر نہ ڈالیں جس میں وہ بھیجے جائیں۔لیکن بعض واقفین عارضی نے ہمارے ساتھ اس سلسلہ میں تعاون نہیں کیا۔اسی طرح بہت سی جماعتوں نے بھی اس سلسلہ میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا اور اس طرح ہمارے لئے ایک بڑی مشکل پیدا کر دی ہے۔جب آپ کا امام کہتا ہے کہ میں ایسے آدمی بھیج رہا ہوں جن کو تم نے کھانا نہیں کھلانا تو پھر کیوں آپ انہیں کھانا کھلاتے ہیں۔آپ کی عزت امام کا کہا ماننے میں ہے کسی کو کھانا کھلانے یا نہ کھلانے میں نہیں۔اسی طرح اگر کسی گاؤں میں واقفین عارضی کا کوئی وفد جاتا ہے تو اس کے اراکین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنا کھانا خود پکائیں جماعت پر اس کا بوجھ نہ ڈالیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی ہرج نہیں کہ اگر گاؤں والے کہیں آپ ابھی آئے ہیں ہم ایک وقت یا دو وقت کے کھانے کا انتظام جماعت کی طرف سے کر دیتے ہیں اس عرصہ میں آپ اپنا انتظام کر لیں۔لیکن یہ نہ تو ان کا حق ہے نہ اس میں ان کے لئے برکت ہے اور نہ یہ چیز ان کی عزت بڑھانے والی ہے کہ امام تو یہ کہے کہ ان کو کھانا نہیں کھلانا اور وہ انہیں مجبور کریں کہ ہم نے ضرور تمہیں کھانا کھلانا ہے۔اس وقت سوال یہ ہے کہ یا تو قرآن کریم کی عزت کو قائم رکھا جائے اور یا آپ کی عزتوں کو قائم رکھا جائے۔ظاہر ہے کہ جب آپ کی عزت آپ کی غلطی کی وجہ سے قرآن کریم کی عزت سے ٹکرائے گی تو بہر حال آپ کی عزت قائم نہیں رہے گی۔لیکن آپ کو سوچنا ہی یہ چاہئے کہ ہماری عزت اسی میں ہے کہ خلیفہ وقت نے جو اپنا منشاء ظاہر کیا ہے اس کے مطابق ہم کام کریں۔اس طرح قرآن کریم کی عزت بھی قائم رہے گی اور آپ کی عزت بھی بڑھے گی۔