سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 7
سبیل الرشاد جلد دوم 7 پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو واقفین عارضی آئیں وہ اس عہد کے ساتھ آئیں کہ چاہے کچھ ہو ہم نے اپنے کھانے کا بار اس جماعت پر نہیں ڈالنا جس میں ہماری ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔اور دوسرے، جماعتوں خصوصاً دیہاتی جماعتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک آدھ وقت کے کھانے کے علاوہ وفودکو کھانا نہ کھلائیں۔جس جگہ سے مجھے یہ اطلاع ملتی ہے کہ وہاں کی جماعت نے وفود کو کھانا کھلایا ہے ( بہت سی جگہیں ایسی بھی ہیں جنہوں نے وفود کو کھانا کھلایا ہو گا لیکن مجھے ان کا علم نہیں ) تو میرا دل نہیں چاہتا کہ میں وہاں دوبارہ واقفین عارضی کا وفد بھیجوں - کیونکہ جو جماعت اس سلسلہ میں میرے ساتھ تعاون کے لئے تیار نہیں اس کا یہ حق نہیں کہ اس میں واقفین عارضی کے وفود بھیجے جائیں۔اس لئے آپ یہ عہد کر کے یہاں سے اٹھیں اور اپنے علاقے میں بھی ہر ایک کو کہہ دیں کہ جب واقفین عارضی کا وفد وہاں آئے تو ان کو کھانا نہیں کھلایا جائے گا۔جماعت کا یہی مطالبہ ہے۔خلیفہ وقت کا یہی حکم ہے ، خلیفہ وقت کے حکم کی آپ کیوں خلاف ورزی کرتے ہیں۔اس طرح ہمارے کام میں روک پیدا ہوتی ہے اور قرآن کریم کے علوم کے رواج کے لئے جو سکیم ہم نے تیار کی ہے اس میں رخنہ پیدا ہوتا ہے۔اصل مقصد آپ کا اور آپ میں سے ہر ایک کا یہ ہے کہ قرآن کریم کے معارف سے جماعت کا ہر فرد واقف ہو جائے اور قرآن کریم کے نور سے ہر سینہ اور دل منور ہو جائے۔ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ( جو غلط ہیں ) آپ کرتے ہیں اور ان کے نتیجہ میں قرآن کریم کے نور کے راستہ میں آپ ایک دیوار حائل کر دیتے ہیں۔میری درخواست ہے کہ آپ مہربانی فرما کر آئندہ ایسی حرکت نہ کریں ورنہ ہمارے کام میں ہرج واقع ہوتا ہے اور جو واقفین آئیں وہ آپ روٹی پکائیں۔وہ اگر پندرہ دن کچی روٹی بھی کھا لیں گے تو کیا ہرج ہوگا۔نسخہ میں بتا دیتا ہوں کہ تھوڑی روٹی کھائیں اور زیادہ چبا کے کھائیں تو کچی روٹی بھی آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ایک دفعہ جب ہماری فرقان بٹالین کشمیر کے محاذ پر لڑ رہی تھی تو میں سرائے عالمگیر گیا جو ہمارا میں کیمپ (Base Camp) تھا۔معلوم نہیں کیا وجہ ہوئی لیکن وہاں جاتے ہی مجھے سوء ہضم کی بڑی خطر ناک قسم کی شکایت پیدا ہوگئی معدہ اور انتڑیوں میں تعفن پیدا ہو گیا۔میرا دل نہ چاہا کہ میں اپنے لئے پر ہیزی کھانا تیار کرواؤں۔بلکہ میں نے عہد کیا کہ جو دال روٹی عام جوانوں کے لئے پکتی ہے میں بھی وہی کھاؤں گا اور اس کیمپ کو یہ تکلیف نہیں دوں گا کہ مجھ بیمار کے لئے یا کسی اور بیمار کے لئے کوئی علیحدہ کھانا تیار کرے۔میں نے ایک چوتھائی اپنی خوراک کا کھایا اور ہر لقمہ کو اتنی دفعہ چبایا کہ اس کا منہ میں رکھنا میرے لئے مشکل ہو گیا۔اس طرح وہ لقمہ خود بخود ز بر دستی حلق کے رستہ پیٹ میں جانے کی کوشش کرتا تھا اور اس میں وہ کامیاب ہو جاتا تھا۔منہ کے اندر روٹی کا ایک قسم کا شور بہ سا بن جاتا تھا اور اس کا نتیجہ