سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 216 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 216

سبیل الرشاد جلد دوم ذہین بچوں کی صحیح نشو ونما اور کامیابی 216 کا میابی تھوڑی بھی ہوتی ہے اور بڑی بھی ہوتی ہے۔ایک شخص بی اے یا ایم اے میں پاس ہوتا ہے۔یہ ایک شخص کی کامیابی ہے۔ایک قوم کے جتنے ذہین بچے ہیں جو دراصل اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور جو ایم اے تک پہنچ سکتے ہیں اگر وہ سب کامیاب ہو جائیں تو یہ قوم کی خوشی کا دن ہے۔ہمارے ملک میں بدقسمتی سے بہت سے ذہن ضائع کر دیئے جاتے ہیں اور یہ بات خدا تعالیٰ کو پیاری نہیں ہے۔خدا تعالیٰ نے ایک اچھا ذہن دیا ہے تو اس کا شکر کرنا چاہئے۔بہر حال اگر کوئی ایسی قوم ہو کہ اگر اس کے سارے ذہین بچے اپنی صلاحیتوں کی پوری نشو و نما کر سکیں تو یہ اس قوم کے لئے بڑا خوشی کا دن ہے۔ایک دفعہ ہمارے ایک مشہور سائنٹسٹ جو ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں انہوں نے مضمون بھی لکھا اور مجھ سے زبانی بھی بات کی۔کئی سال پہلے کی بات ہے کہ بڑا فکر رہتا ہے۔اس وقت ملک میں صرف پانچ ہزار سائنسدان ہیں اور ہمیں ان کی بڑی ضرورت ہے۔میں نے ان سے کہا کہ تم نے پچاس ہزار سائنسی ذہن ضائع کر دیئے اور آج تم روتے ہو کہ ہمارے پاس سائنسدان نہیں ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو تمہیں نہیں چھوڑ ا تھا لیکن تم نے خدا کو اور اس کی نعمتوں کو چھوڑ دیا اور اب تم اس کا نتیجہ بھگت رہے ہو۔ذہین بچوں کی اعلیٰ تعلیم ایک اور دوست سے میں نے بات کی۔میں نے کہا ہم غریب سی جماعت ہیں۔جہاں تک ہماری بساط اور طاقت ہے ہم اپنے ذہین بچوں کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔ابھی انشاء اللہ کل ہی ایک غریب مگر ذہین بچہ انگلستان جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے حساب کے ایک خاص شعبہ میں بڑا اچھا ذہن دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی ذہانت اور فراست کو اور زیادہ تیز کرے۔پس قوم نے اس کا انتظام کیا۔وہ ولایت جا کر پڑھے گا اور اگر حالات یہی رہے اور اس کی توجہ بھی قائم رہی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذہن کو بھی اسی طرح ٹھیک رکھا تو وہ انشاء اللہ دس سالوں کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے چوٹی کے دماغوں میں شامل ہو جائے گا۔پس ہم اس معاملہ میں کنجوس نہیں ہیں۔جو جماعت کے بچے نہیں ابھی تک اگر اُن کے متعلق ہمیں پتہ لگ جائے۔اور ہمیں طاقت ہو تو ہم ان کی بھی مدد کرتے ہیں۔ہم نے خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اپنے غیر احمدی بھائیوں کے سینکڑوں بچوں کو اعلی تعلیم دلوائی ہے۔جس سے ان کے خاندانوں کی کایا پلٹ گئی ہے۔ہمارے اس علاقہ کے ایک مزدور کا بچہ تھا۔جس کے لئے باپ ایک پیسہ خرچ نہیں کر سکتا تھا۔