سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 215 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 215

215 سبیل الرشاد جلد دوم ہیں۔پس جو دسویں میں پاس ہو جاتا ہے۔اس کے چہرے کے آثار ایسے ہوتے ہیں تو وہ آدمی جو خدا تعالیٰ کے امتحان میں پاس ہو کر خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرتا ہے اس کے جسم اور روح میں سے جو نور نکل رہا ہوگا۔اس کی شعاعوں کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں کر سکتا۔لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ“ کے گروہ میں ہیں۔وہ جو بھی عمل کرتے ہیں اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔اُن کے چہروں پر وہی بددلی ، وہی پریشانی اور وہی گھبراہٹ کے آثار اور وہی نیند کے اُڑے رہنے کی کیفیت طاری رہتی ہے۔مثلاً ایٹم بم ایجاد کر دیا۔دنیا کہتی ہے یہ بڑا کارنامہ ہے۔مگر جن قوموں نے ایٹم بم ایجاد کیا ہے ان کو اپنی ہلاکت کا اتنا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ ایٹم بم کی ان کو کیا خوشی ہے۔ان کو تو اب یہ فکر لاحق ہے کہ کہیں ایک دوسرے پر اس کا استعمال ہو گیا تو یہ انہیں تباہی کے گڑھے میں پھینک دے گا۔محنت اور بشاشت کا احساس 0 پس دنیا کی وہ ساری کوششیں جو دعاؤں کے حصار کے اندر نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کے حصار کے اندر نہیں ہیں ، ان کا نتیجہ خوشی نہیں ہے۔آدمی منہ سے جو مرضی کہہ لے لیکن ان قوموں کے چہروں پر ہمیں فکر کے آثار نظر آ رہے ہیں حالانکہ ان کے چہروں پر خوشی اور بشاشت کا یہ احساس پیدا ہونا چاہئے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے۔اور ہمیں وہ کچھ مل گیا ہے جس کی ہمارے ذہن بھی امید نہیں کر سکتے تھے اور جہاں تک ہمارا خیال بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔غرض عَامِلَةً نَّاصِبَةً بھی ہیں یعنی ایسے محنت کرنے والے لوگ جن کی محنت کا نتیجہ نہیں نکلتا۔وہ نتیجہ جو وہ اپنے لئے نکالنا چاہتے ہیں۔وہ نتیجہ جو بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے ہو۔وہ نتیجہ جو انسان کی بشاشت کے سامان پیدا کرنے والا ہو۔اس کی خوشی کے سامان پیدا کرنے والا ہو۔لوگوں کی بے فکری کے سامان پیدا کرنے والا ہو۔ان کے سکون کے سامان پیدا کرنے والا ہو۔وہ نتیجہ نہیں نکلتا۔لیکن قرآن کریم نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ اگر تم اپنے فعل و عمل اور دوسرے ذرائع ( مثلاً طباعت ہے ) سے اشاعت قرآن کرو گے تو تمہاری اس کوشش کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔اور وہ بڑا شاندار ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَجُوهٌ يَوْمَذٍ نَّاعِمَةٌ لِسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةِ عَالِيَةٍ لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَا غِيَةً۔کہ اسلام کی اشاعت کی جدوجہد کو اللہ تعالیٰ کا میاب کرے گا اور بڑی ہی کامیابی دے گا۔سورۃ الغاشیۃ آیت ۹ تا ۱۲