سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 214 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 214

سبیل الرشاد جلد دوم 214 ایسے سامان پیدا کرے گا کہ تم اُن رحمتوں اور برکتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاؤ گے۔تمہاری روح اور تمہارا دل کھل اُٹھے گا۔جس طرح بادلوں سے پانی برستا ہے اور زمین پر تر و تازگی کے آثار پیدا کر دیتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمانوں سے نازل ہوگی۔البتہ کبھی وہ وحی کے ذریعہ سے نازل ہو گی۔کبھی وہ الہام کے ذریعہ سے نازل ہو گی۔کبھی وہ کشوف کے ذریعہ سے نازل ہو گی۔کبھی وہ رویائے صالحہ کے ذریعہ سے نازل ہو گی۔کبھی وہ فرشتوں کے نزول کے ساتھ آئے گی اور کبھی وہ کسی اور طریق سے آئے گی۔کیونکہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ - اللہ تعالیٰ کا تو ہر رنگ ہی نرالا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو تو ہم گن نہیں سکتے۔بے شمار زاویوں سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور بے شمار طریقوں سے اس کی رحمتیں نازل ہوں گی اور وہ تمہارے لئے بے شمار خوشیوں کے سامان پیدا کرتی جائیں گی اور اس سے یہ دعویٰ ثابت ہوگا کہ اِنَّهُ لَقَوْلُ فَصْلُّ صحیح محنت اور اس کے نتائج۔اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ہم تمہیں جو کہتے ہیں کہ محنت کرو گے۔جد و جہد کرو گے محنت کی طرف میں نے شروع میں افتتاحی تقریر میں بھی ایک رنگ میں توجہ دلا ئی تھی تو تمہارا دل اس طرف بھی مائل ہوسکتا ہے۔تمہاری توجہ اس طرف بھی پھر سکتی ہے کہ ساری محنتیں تو نتیجہ خیز نہیں ہوا کرتیں یعنی ساری محنتیں اور کوششیں ایسی نہیں ہوتیں کہ ان کے نتیجہ میں تسلی ملے۔سکون ہو، کامیابی ہو، رحمتوں کے سامان پیدا ہوں ، نور کی وسعتیں پیدا ہوں۔بشاشت قلب پیدا ہو۔چہرے پر مسکراہٹیں ہوں۔غموں سے نجات ملے۔پس ساری محنتیں تو کامیاب نہیں ہوتیں عَامِلَةً نَاصِبَةٌ بھی تو ہوتی ہیں۔ایسے لوگ کوشش کرتے ہیں مگر نتیجہ کوئی نہیں نکلتا۔چنانچہ بے نتیجہ کوشش کا اثر یہ ہوتا ہے کہ چہرے پر سیاہی آ جاتی ہے۔بددلی کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔آدمی کی تیوریاں چڑھی ہوتی ہیں۔وہ بڑا پریشان ہوتا ہے۔کبھی آپ نے بے نتیجہ کوشش والا نا کام انسان دیکھا ہے؟ میں نے تو بہت دیکھے ہیں۔میں تو آدمی کا چہرہ دیکھ کر ہی پہچان جایا کرتا ہوں کہ وہ کہیں سے ناکام ہو کر آیا ہے۔لیکن جو کامیاب ہو جاتا ہے اس کے چہرے سے پتہ لگ جاتا ہے۔میں ایک موٹی مثال لیتا ہوں۔دسویں جماعت کا بچہ پاس ہوتا ہے۔کوئی تھرڈ ڈویژن میں ، کوئی سیکنڈ ڈویژن میں اور کوئی فرسٹ ڈویژن میں۔جس وقت وہ نتیجہ سُن کر اپنے گھر میں آتا ہے اس وقت اسے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ میں پاس ہو گیا ہوں اس کے چہرے کے آثار بتاتے ہیں کہ وہ پاس ہو گیا ہے۔اس کے جسم میں سے ، اس کی روح میں سے خوشی کی شعاعیں نکل رہی ہوتی سورة الرحمن ۳۰ سورة الغاشية آیت ۴