سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 202
سبیل الرشاد جلد دوم 202 اس وقت فضل عمر فاؤنڈیشن کے متعلق میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ چکا ہوں۔آپ کے سامنے یہ بات اس لئے رکھ رہا ہوں کہ جس دن فضل فاؤنڈیشن شاہراہ غلبہ اسلام پر حرکت میں آئی تھی۔اس کی نسبت بہت زیادہ حرکت جماعت کے دوسرے اداروں میں پیدا ہو چکی ہے۔مثلاً پچھلے سال نصرت جہاں آگے بڑھو کے لئے جس مال کی ضرورت تھی اس کی خاطر میں نے ” نصرت جہاں ریزرو فنڈ جاری کیا چنانچہ اس مالی تحریک کے علاوہ وصیت کے چندے، عام چندے، تحریک جدید کے چندے، وقف جدید کے چندے ، خدام الاحمدیہ کے چندے، انصار اللہ کے چندے اور لوکل جماعتوں کے چندے تھے اور پھر ان کے علاوہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے ۳۳ لاکھ روپے دے کر دوست بظاہر تھکے ہوئے تھے۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی تھی اور خود رہنمائی فرمائی تھی کہ تم جماعت سے قربانی لو۔میری یہ قوم بشاشت سے قربانی دیتی چلی جائے گی۔چنانچہ وہ لوگ جو دنیا کی نگاہ میں تھکے ہوئے سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے فضل عمر فاؤنڈیشن سے کہیں زیادہ مال نصرت جہاں ریز روفنڈ میں دے دیا۔خدا تعالیٰ سے تجارت اور غیر معمولی برکت : جس وقت مال آتا ہے تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دنیا میں ہر قسم کے ذہن ہوتے ہیں مسلمانوں میں بھی تاجرانہ ذہن پایا جاتا ہے۔بنیا ہو نا صرف ہندو کی اجارہ داری نہیں ہے مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو بڑے تاجرانہ ذہن رکھتے ہیں۔ایسے تاجرانہ ذہنوں کو فکر پڑ گئی کہ پیسہ آ گیا ہے اس کو تجارت میں لگنا چاہئے ورنہ یہ بڑھے گا نہیں۔میرے پاس ایک سے زیادہ دوست آئے۔انہوں نے کہا کہ روپیہ جمع ہے اسے تجارت میں لگائیں۔آج کل بعض کمپنیاں اچھی ہیں اگر وہ مل جائیں اور ان میں پیسہ تجارت میں لگایا جائے تو دس فیصد تک نفع مل جاتا ہے۔میں نے ان کی بات سنی (میں ہر ایک کی بات آرام سے سنتا ہوں ) اور مسکرا کر کہا کہ جس ہستی سے میں تجارت کر رہا ہوں۔مجھے امید ہے کہ وہ مجھے دس فیصد سے کہیں زیادہ نفع دے گا۔میں تو اس سے ۳۰۰ فیصد نفع کی امید لگائے بیٹھا ہوں۔اس لئے اگر آپ ۳۰۰ فیصد سے زیادہ نفع کسی اور جگہ سے لے دیتے ہیں تو پھر ہم تھوڑا سا پیسہ وہاں بھی لگا دیں گے۔مگر یہاں ۳۰۰ فیصد کون دیتا ہے خیر وہ تو ہوا۔جماعت سے میں نے کہا تھا کہ خرچ کر دینا ہے۔افریقہ میں بھی یہی کہا تھا۔لیکن مجھے پتہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تجارت کا محاورہ ویسے ہی استعمال نہیں کیا۔جو اللہ تعالیٰ سے تجارت کرتا ہے وہ گھاٹے میں کس طرح رہ سکتا ہے ؟ صرف ایک مثال دے دیتا ہوں۔اس کی تفصیل میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح فضل کیا۔ایسا معلوم